فلم ’لندن نہیں جاؤں گا‘ کے مکالمے بیہودہ تھے، سوشل میڈیا صارفین برہم

تازہ ترین

تازہ ترین

فلم ’لندن نہیں جاؤں گا‘ کے مکالمے بیہودہ تھے، سوشل میڈیا صارفین برہم
فلم ’لندن نہیں جاؤں گا‘ کے مکالمے بیہودہ تھے، سوشل میڈیا صارفین برہم

اس عید الاضحیٰ پر مون سون کی بارش ہی واحد چیز نہیں تھی جس سے پاکستانی لطف اندوز ہوئے بلکہ تین پاکستانی فلمیں بھی تھیں جو 10 جولائی 2022 کو ریلیز ہوئیں۔

سینیما گھروں میں تین فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں قائداعظم زندہ باد، لفنگے اور لندن جاؤں گا شامل تھیں، جس میں سے ایک میں ہمایوں سعید اور دوسری میں فہد مصطفیٰ نظر آئے۔

تاہم سوشل میڈیا صارف میں سے ایک خاتون خلیل الرحمان کی لکھی ہوئی فلم ’لندن نہیں جاؤں گا‘ دیکھنے کیلئے گئیں اور انہوں نے ہمایوں سعید اور مہوش حیات کی اداکاری اور فلم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا:

آپ جس عورت سے پیار کرتے ہیں اس کا پیچھا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔

ایک ایسی لڑکی جو آپ کو انکار کردے اُس کا مسلسل پیچھا کرتے رہنا درست نہیں۔

لڑکی کی خاموشی کو ہاں سمجھنا غلط ہے۔

لڑکی کے بُرا ماننے کے باوجود یہی کہتے رہنا کہ وہ آپ سے پیار کرتی ہے ٹھیک نہیں۔

اپنے خیالات کو بار بار اس پر مسلط کرنا درست نہیں ہے۔

مردوں میں انکار کو برداشت کرنے کی طاقت ہونی چاہیے اور اُس کو مثبت انداز میں لینا چاہیے۔

فلم دیکھنے والی خاتون کے مطابق مصنف نے جو فیمنسٹ ٹچ دینے کی کوشش کی ہے وہ بہت ہی فضول تھا۔ ایک اور صارف نے فلم کو بالکل مایوس کن قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:

اداکارہ عشنا شاہ محبت میں مبتلا، سوشل میڈیا پر پوسٹ وائرل

فلم کی مرکزی کاسٹ پر اُن کے طنز کسی نہ کسی طرح جائز تھے کیونکہ سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے کہ ہمایوں سعید کو نہ صرف ایک ہیرو کا کردار ادا کرنا چاہیے بلکہ انہیں اور واسع چوہدری کو اب ایک بیچلر کا کردار ادا کرنا بند کر دینا چاہیے۔

علاوہ ازیں صارف کے مطابق فلم کے مکالمے بہت ہی بیہودہ تھے جس نے اُسے بہت زیادہ پریشانی میں مبتلا کردیا تھا کیونکہ اُس نے فیملی کے ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھی تھی۔

خیال رہے کہ لندن نہیں جاؤں گا ایک نئی پاکستانی فیچرڈ فلم ہے جس میں ہمایوں سعید، کبریٰ خان، مہوش حیات، اور واسع چوہدری مرکزی کردار میں ہیں۔

Related Posts