عالمی سطح پر ڈالر کے بھاؤ میں دن بدن اضافہ عالمی معاشی منظرنامہ خراب ہونے کی وجہ بن رہا ہے۔
حال ہی میں عالمی جریدے نیویارک ٹائمز نے ڈالر بڑھنے کی وجہ اور باقی دنیا اس کا کیا اثر لے رہی ہے کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔
امریکی اخبار کی خبر کے مطابق ڈالر مضبوط ہوا ہے، 6 کرنسیوں پر مشتمل ڈالر انڈیکس 20 سالوں میں بلند ترین ہے۔
2002 کے بعد ایک یورو ، ایک ڈالر کے برابر ہوگیا ہے، اگر ہم جاپانی کرنسی ین کو دیکھیں تو یہ 24 سال کی کم ترین سطح پر ہے۔
ڈالر بڑھنے کی پہلی وجہ:
عالمی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ڈالر کا بھاؤ بڑھنے کا بڑا سبب امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کا شرح سود بڑھانا ہے کیونکہ فیڈرل ریزرو نے باقی ترقی یافتہ ملکوں سے زیادہ تیزی سے شرح سود بڑھایا ہے۔
ڈالر بڑھنے کی دوسری وجہ:
عالمی جریدے کی رپورٹ میں ڈالر کی قدر بڑھنے کی دوسری وجہ توانائی کی بلند قیمتیں ہیں، توانائی کی بلند قیمتوں کے سبب دنیا میں کساد بازاری کے خدشات بڑھ رہے ہیں اور چونکہ امریکا درآمدی تیل اور گیس پر انحصار نہیں کرتا اس لیے اس کی صورتحال دیگر ممالک سے بہتر ہے۔
واضح رہے کہ عالمی بازار میں بے یقینی ہو تو سرمایہ محفوظ کرنے کے لیے ڈالر کی خریداری ہوتی ہے۔
اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایسے ممالک جو اپنی ضرورت کے لیے امریکی ڈالر میں قرض لیتے ہیں، ڈالر کی قدر بڑھنا اور ان کی اپنی کرنسیوں کی قدر کم ہونا، ان ملکوں کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ خاص طور پر ایسے ملکوں کیلئے جن کی قومی پیداوار عالمی قرض پر انحصار کرتی ہے، ان ملکوں کے لیے سود اور قرض کی ادائیگی مشکل ترین ہوگی ہے۔
ارجنٹائن اور ترکی کی مثال:
یہاں پر ارجنٹائن اور ترکی اِس کی اہم مثالیں ہیں، ان ملکوں کو نئی شرح پر مہنگا قرض لینا ہوگا، کچھ ملکوں خصوصاً سری لنکا کے لیے یہ تقریباً ناممکن ہے۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ وہ ملک جو دنیا کو خوراک اور خام تیل فروخت کرتے ہیں، ان ملکوں کی کرنسیاں ڈالر کی قدر بڑھنے کے باوجود بڑھی ہیں جس میں سرفہرست روسی روبل ہے، برازیل، انگولا اور یوراگوئے کی کرنسیوں کی قدر بھی اسی وجہ سے بڑھی ہے۔
کیا ڈالر کی قدر میں کمی ہوگی؟
توانائی بحران کا شکار یورپ، شرح سود نہ بڑھانے والا جاپان، چین میں کووڈ لاک ڈاون سے سپلائی خدشات کے سبب مہنگائی رہے گی جس سے ڈالر کی مانگ رہے گی۔ لیکن کب تک رہے گی اس حوالے سے اخبار کا کہنا ہے کہ جس قدر اضافہ اب ڈالر میں ہوچکا ہے اُس کے بعد اب باتیں ڈالر کی بلندی کی ہورہی ہیں۔