وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں لگژری اور غیر ضروری اشیاء کی درآمد پر پابندی ہٹانے کی منظوری دے دی گئی۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دو ماہ بعد گاڑیوں، موبائل فون اور گھریلو استعمال کی اشیاء کے علاوہ پرتعیش مصنوعات کی درآمد پر پابندی ختم کر دی۔
یکم جولائی کے بعد بندرگاہوں پر آنے والی لگژری درآمدی اشیاء کی کنسائمنٹس کو 25 فیصد سرچارج کی ادائیگی پر کلیئر کرنے کی بھی اجازت دے دی۔
سگریٹس، چاکلیٹ اور جوسز کی درآمد پر پابندی ہٹا دی گئی ہے، جبکہ کارپیٹس کی درآمد پر پابندی ہٹانے کی بھی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس میں کاسمیٹکس، ٹشو پیپرز، کتوں اور بلیوں کی خوراک، مچھلی، فٹ ویئر، فروٹ اور ڈرائی فروٹس کی درآمد پر پابندی ختم کرنے کی منظوری دی گئی۔
اسی طرح فرنیچر، آئس کریم، جیم اور جیلی، لیدر جیکٹس، شیمپو، سن گلاسز، کیچپ، اسلحہ، پاستہ، موسیقی کے آلات، فروزن گوشت، دروازوں، کھڑکیوں کے فریمز اور ڈیکوریشن آرٹیکلز پر بھی پابندی ختم کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کراکری اور کارن فلیکس کی درآمد سے پابند ہٹانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ان اشیا کی درآمد پر پابندی اٹھانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
یاد رہے وفاقی حکومت نے 19 مئی 2022 کو 33 کیٹگریز کی سیکڑوں اشیاء پر پابندی عائد کی تھی۔ ان اشیاء پر پابندی کے بعد درآمدات میں 69 فیصد کمی ہوئی، جبکہ گاڑیوں اور موبائل فون کی درآمد پر پابندی سے درآمدی بل میں 79 فیصد کمی ہوئی جبکہ باقی 21 فیصد کمی 810 ٹیرف لائینز پر کمی سے ہوئی۔