اسلام آباد: پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان گزشتہ کئی دہائیوں سے برادرانہ اور دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سعودی سفیر نے اِن خیالات کا اظہار جمعرات کو یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر مظفرآباد کے کنگ عبداللہ کیمپس اور کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال مانسہرہ خیبر پختونخوا کیلئے میڈیکل لیب اور آلات کی فراہمی اور تنصیب کے معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان اور اس کے عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور وہ پاکستان کی حمایت اور مدد میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گا
تقریب کا اہتمام سعودی عرب کے فنڈ برائے ترقی نے کیا تھا۔ نواف بن سعید المالکی نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت نے پہلے ہی پاکستانی طلباء کیلئے سعودی یونیورسٹیوں میں پڑھنے کیلئے 50 وظائف کا اعلان کیا ہے، سعودی حکومت پاکستانی طلباء کی تعلیم اور رہائش سے متعلق تمام اخراجات برداشت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی طلباء کیلئے وظائف کی تعداد اگلے سال دوگنی کردی جائے گی۔ آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے معاہدے پر دستخط کی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بہت مضبوط تعلقات ہیں اور دونوں ممالک اسلامی ثقافت کی وجہ سے ایک دوسرے سے بہت قربت رکھتے ہیں۔
انہوں نے اس موقع پر سعودی عرب کی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چھتر کلاس میں کنگ عبداللہ کیمپس کی تعمیر کے منصوبے کیلئے فراخدلی سے فنڈ فراہم کئے ہیں ۔
اُن کا کہنا تھا کہ مملکت سعودی عرب نے ہر آزمائش کی گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا جو ہماری تاریخ میں رقم ہے اور یونیورسٹی کی تعمیر نو بھی ہماری یادوں میں نقش رہے گی۔ وائس چانسلر نے کہا کہ اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کے دوران یونیورسٹی کا مکمل انفراسٹرکچر تباہ ہونے سے 217 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں جن میں طلباء، اساتذہ اور عملہ شامل تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن کی تکمیل کے فوراً بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے طلباء کے قیمتی تعلیمی سال کو بچانے کیلئے عارضی طور پر اسلام آباد ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا۔کلیم عباسی نے کہا کہ چھتر کلاس میں جدید ترین کنگ عبداللہ کیمپس کی تعمیر 6.711 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوئی جسے 30 ستمبر 2019 کو آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے حوالے کردیا گیا۔
نیا کیمپس 14 تعلیمی شعبوں اور اداروں کے 7,000 سے زیادہ طلباء کو سہولت فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ 6 ہاسٹل، انتظامی بلاک، آڈیٹوریم، مسجد، ہائی ٹیک لیب اور شاپنگ مال بھی اس میں قائم کئے گئے ہیں۔ آزاد جموں و شمیر کے وزیر صحت نثار انصار ابدالی نے اس موقع پر کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام 2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد فراخدلی سے انسانی امداد کیلئے سعودی عرب کے مشکور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سعودی حکومت کو 10 ارب روپے سے زائد کی لاگت سے آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے کنگ عبداللہ کیمپس کی تعمیر کے فیصلے کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے اور اب سعودی حکومت نے کیمپس کے سامان کی فراہمی کیلئے مزید 3.5 ارب روپے خرچ کئے ہیں۔