شہباز گل کو کیوں گرفتار کیا گیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم عمران خان کے چیف آف اسٹاف ڈاکٹر شہباز گل کو منگل کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا۔ شہباز گل کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ پارٹی لیڈر عمران خان سے ملاقات کے لیے ان کی رہائشگاہ بنی گالہ جا رہے تھے۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے الزام لگایا ہے کہ شہباز گل کو سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے حراست میں لیا اور گرفتاری کے وقت ان پر تشدد بھی کیا گیا۔ حالیہ مہینوں میں یہ شہباز گل کی دوسری گرفتاری ہے۔ 17 جولائی کو پنجاب پولیس نے مظفر گڑھ میں شہباز گل کو ضمنی انتخابات کے دوران پولنگ میں مداخلت کے الزام میں سکیورٹی گارڈز سمیت گرفتار کیا تھا۔ بعد میں ضلع مجسٹریٹ کے حکم پر انہیں رہا کر دیا گیا۔

 شہباز گل کی گرفتاری پر حکومت کا موقف:

منگل کو اسلام آباد میں وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو اسلام آباد میں ریاست کی جانب سے ان کے خلاف درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز گل کے خلاف تھانہ کوہسار میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 505، 120، 120-B، 153، 153-A، 124-A اور 131 کے تحت ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے توشہ خانہ اور ممنوعہ فنڈنگ ​​کیسز میں پھنسنے کے بعد ایک نجی چینل کے ساتھ مل کر حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف سازش کی۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان قوم کو گمراہ کرنے اور تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ثناء اللہ نے کہا کہ ’’ایک سازش کے تحت سانحہ لسبیلہ کے حوالے سے ایک جھوٹا بیانیہ تیار کیا گیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پھر نجی ٹیلی ویژن چینل کی ملی بھگت سے فواد چوہدری اور شہباز گل سمیت دو لوگوں کو یہ بیانیہ سامنے لانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نجی چینل پر شہباز گل کے تبصرے فوج کے اندر تقسیم پیدا کرنے کی منصوبہ بند سازش کا حصہ تھے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ تبصرے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی قیادت میں تیار کردہ اسکرپٹ کے مطابق تھے جسے سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور شہباز گل نے آگے بڑھایا۔

پولیس کا موقف:

اسلام آباد پولیس کے مطابق شہباز گل کو ریاستی اداروں کے خلاف بیانات دینے اور عوام کو بغاوت پر اکسانے پر حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی شکایت پر شہباز گل کے خلاف تھانہ کوہسار میں غداری کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ شہباز گل پر انتشار پھیلانے، ریاست کے خلاف لوگوں کو اکسانے کے ساتھ دیگر سنگین الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔

عمران خان کا ردعمل:

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے شہباز گل کی گرفتاری کو ’اغوا‘ قرار دیا ہے۔ عمران خان نے شہباز گل کے ڈرائیور کا ویڈیو بیان شیئر کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پی ٹی آئی رہنما کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گاڑی سے گھسیٹ کر باہر لایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اغوا ہے، گرفتاری نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا ایسی شرمناک حرکتیں کسی جمہوریت میں ہو سکتی ہیں؟ سیاسی کارکنوں کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے اور یہ سب ہمیں بدمعاشوں کی غیر ملکی حمایت یافتہ حکومت کو قبول کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

Related Posts