امریکی مشیر برائے قومی سلامتی کے قتل کی سازش ناکام، ایرانی شہری پر فرد جرم عائد

تازہ ترین

تازہ ترین

امریکی مشیر برائے قومی سلامتی کے قتل کی سازش ناکام، ایرانی شہری پر فرد جرم عائد
امریکی مشیر برائے قومی سلامتی کے قتل کی سازش ناکام، ایرانی شہری پر فرد جرم عائد

امریکا نے سابق مشیر قومی سلامتی جان بولٹن کے قتل کی سازش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے مبینہ رکن شہرام پورصفی پر ان کی غیر حاضری میں فردِ جرم بھی عائد کردی گئی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ شہرام پورصفی عرف مہدی رضائی نے بولٹن کے قتل کا انتظام کرنے کی کوشش کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ملزم امریکی ڈرون حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کی موت کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ شہرام عرف مہدی رضائی نے واشنگٹن یا میری لینڈ میں بولٹن کے قتل کیلئے لوگوں کو 3 لاکھ ڈالرتک کی پیشکش کی تھی۔

قتل کی سازش ناکام بنانے کی اطلاعات پر جان بولٹن کی جانب سے امریکی محکمہ انصاف اور خفیہ ایجنسیوں کا شکریہ کیا گیا۔ جان بولٹن کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ایرانی حکمرانوں کے امریکا مخالف مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:

عمران خان کو شہباز گل کے بیان پر معافی مانگنی چاہیے، رانا ثناء اللہ

سابق مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ ایران کے وعدے بے وقعت ہیں اور اس سے لاحق عالمی خطرہ بڑھ رہا ہے،بائیڈن انتظامیہ 2015 کا جوہری معاہدہ بحال نہ کرے۔

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے الزامات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایرانی شخص نے آن لائن ملنے والے ایک امریکی شہری سے کہا تھا کہ وہ جان بولٹن کی تصاویر اتارے مبینہ طور پر اس کتاب کے لیے جو وہ لکھ رہے تھے۔ اس کے بعد نامعلوم شہری نے پورصافی کا تعارف ایک اور شخص سے کروایا تھا جسے بعد میں سابق صدر ٹرمپ کے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن کو قتل کرنے اور قتل کے ویڈیو ثبوت فراہم کرنے کو کہا گیا تھا۔

خیال رہے کہ دو سال قبل جنوری 2020 کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے 62 سالہ سربراہ جنرل قاسم سلیمانی عراق کے بغداد ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک امریکی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کا حکم امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیا تھا۔

 

Related Posts