ملی نغمے، قومی ترانے اور رزمیہ نظمیں قوم میں آگے بڑھنے، حب الوطنی اور متحد ہونے کا جوش و ولولہ اور وحدت کا احساس بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ سوئی ہوئی قوم کی بیداری کا ذریعہ بھی بنتی ہیں اور دشمن کے مقابلے میں قوم کو مضبوط ہونے کی طاقت بھی عطا کرتی ہیں۔
تحریک آزادی میں ہمارے قومی شعراء بالخصوص شاعر مشرق علامہ اقبال کی شاعری کا کردار بھلا کون بُھلا سکتا ہے، کیسے ان کی با مقصد ملی شاعری نے ایک ہاری اور سوئی ہوئی قوم کو جگایا اور اپنے سے کئی گنا بڑی طاقت کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی ہمت عطاء کی۔
ایسے ہی پینسٹھ کی جنگ میں قومی نشریاتی رابطے پر جاری ہونے والے ملی نغموں نے پوری قوم میں وحدت و یگانگی کی روح پھونکی اور دشمن کے مقابلے میں اگلے محاذوں پر داد شجاعت دینے والے قوم کے جانباز سپاہیوں کے ولولوں میں بجلی بھری، جس کے نتیجے میں ایک فل اسکیل جنگ کے باوجود پوری قوم میں قومیت کی اسپرٹ اور نظم و ضبط برقرار رہا اور قوم کا مورال جنگ کے اختتام تک بلند رہا۔
حقیقت یہ ہے کہ منتشر اور بکھرے ہوئے ہجوم کو ایک قوم بنانے میں ہر مشکل موڑ پر جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہمارے شعرا اور فنکاروں کے لکھے اور گائے گئے ملی نغموں اور ترانوں نے تاریخی کردار ادا کیا ہے۔
“پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ ملی نغمے بنانے والا ملک ہے۔” بہت سے افراد نے یہ بات پہلی بار سنی ہوگی۔ ہمیں یہ بات ایک ایسی شخصیت نے بتائی جو پاکستان کے ملی نغموں کا تنہا محافظ ہے۔
یہ ہیں کراچی کے ابصار احمد، آئیے ان سے مل کر معلوم کرتے ہیں کہ انہوں نے کیسے پوری ایک انجمن کا کام تنہا سر انجام دیا۔ در اصل شوق اور جذبہ ایسی چیز ہے جو مشکل سے مشکل کو بھی آسان بنا دیتی ہے۔ ابصار احمد کا جواب بھی ایک لفظ میں یہی تھا کہ شوق اور صرف شوق۔
ایم ایم نیوز کے اس سوال پر کہ ملی نغمے جمع اور محفوظ کرنے کا شوق ان میں پیدا کیسے ہوا تو ان کا جواب کچھ یوں تھا: “یہ 1996 کی بات ہے، کرکٹ ورلڈ کپ چل رہا تھا، اس ورلڈ کپ میں پہلی بار کرکٹ میں جیت کا جذبہ پیدا کرنے کیلئے ملی نغمے پیش کیے گئے۔ ایسا ہی ایک نغمہ ٹی وی پر سنا تو دل کو بھا گیا۔ میری پسند کو دیکھ کر کسی نے بتایا کہ اس کی کیسٹ بھی مل سکتی ہے۔ یہ سن کر دل اور شوق نے ضد پکڑ لی کہ یہ کیسٹ حاصل کرنی ہے۔ میں نے امی سے فرمائش کے ساتھ پاکٹ منی سے بھی اس کیسٹ کے حصول کیلئے رقم پس انداز کرنا شروع کر دی اور پھر ایک دن امی نے بازار سے یہ کیسٹ مجھے دلا دی۔ یوں دل میں مزید شوق پروان چڑھا اور رفتہ رفتہ نغمے جمع اور محفوظ ہوتے چلے گئے۔”
ابصار احمد نے بتایا کہ پاکستان میں مختلف زبانوں میں پانچ ہزار سے زائد ملی نغمے بن چکے ہیں، جو ایک ورلڈ ریکارڈ ہے، ان پانچ ہزار میں سے الحمد للہ میں نے ساڑھے چار ہزار ملی نغمے ٹی وی سے براہ راست ریکارڈ اور کیسٹ سے ڈب کروانے کے ساتھ ساتھ کتابی صورت میں بھی محفوظ اور جمع کر رکھے ہیں۔
ابصار احمد کی پوری دلنشین گفتگو آپ ہماری ویڈیو میں دیکھ اور سن سکتے ہیں، آخر میں ابصار احمد نے بہت ہی قیمتی اور خوبصورت بات کی، انہوں نے کہا کہ سوچئے اگر پچھتر سال میں پیش کئے گئے پاکستان کے ملی نغمے ضائع نہیں ہوئے اور اللہ نے ان کو محفوظ رکھنے کا انتظام کروا دیا تو نظریہ پاکستان اور پاکستان کیلئے ہمارے عظیم شہیدوں کا لہو کیوں کر رائیگاں جائے گا۔