ہنی ٹریپ سےاغواکی وارداتوں میں اضافہ کیوں ہورہاہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

خواتین کی آوازسے جھانسہ دیکر اغواکی وارداتوں میں اضافہ کیوں ہورہا ہے؟
خواتین کی آوازسے جھانسہ دیکر اغواکی وارداتوں میں اضافہ کیوں ہورہا ہے؟

صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ اور گھوٹکی میں شہریوں کو خواتین کی آواز میں جھانسہ دے کر اغوا کیا جارہا ہے اور حالیہ دنوں کے دوران ان وارداتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔

اغواء برائے تاوان ایک سنگین جرم ہے تاہم خواتین جیسی آواز میں باتیں کرکے بہلا پھسلا کر لوگوں کو اغواء کرنے کو ہنی ٹریپ کا نام دیا گیا ہے۔ آئیے غور کرتے ہیں کہ لاڑکانہ میں ایسے جرائم میں اضافہ کیوں ہورہا ہے۔ 

ہنی ٹریپ کا طریقہ کار

اس طریقہ کار سے متعلق ڈی آئی جی لاڑکانہ مظہرنوازشیخ کہتے ہیں کہ ہنی ٹریپ لفظ سےواضح ہےکہ یہ فیمیل انٹائسمنٹ ہے۔ بنیادی طورپرڈاکوخواتین کی آوازمیں انجان رینڈم نمبرزملاتےہیں اور کسی بھی شہری کو خواتین کی آوازمیں جھانسہ دیکر اسے اپنے بتائے گئے مقام پربلاکراسے اغواء کرکے لے جاتے ہیں۔ 

 متاثرہ افراد کاغیرسنجیدہ رویہ کیوں؟

ڈی آئی جی لاڑکانہ پولیس کا کہنا ہے کہ ہنی ٹریپ کےذریعے متاثرہ افراد  اپنی خواہش سے کالرز کے بتائے گئے مقام  پر راضی خوشی چلے جاتے ہیں۔ ٹریپ کیے گئے متاثرین نہ اپنے والدین کو کچھ بتا سکتے ہیں اور نہ ہی قانون نافذکرنےوالےاداروں کواعتمادمیں لینے کی ہمت کرتے ہیں۔ 

اغواء کی وارداتوں میں اضافہ

لاڑکانہ ڈویژن میں ہنی ٹریپ سمیت اغوا برائے تاوان کے متعدد کیسز سامنے آتے رہتے ہیں۔ شکارپور اور کندھ کوٹ کے علاوہ کشمور کے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کی متعددپناہ گاہوں میں نہ صرف پورے سندھ بلکہ پنجاب اوربلوچستان سےبھی مغوی افراد کو رکھا جاتا ہے اور مہینوں تک حبسِ بے جا کا سامنا کرنے والے تاوان ادا کرکے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ 

پولیس ناکام کیوں؟

کئی آپریشنز کرنے کی کوشش کے باوجود ناقص انفراسٹرکچر اور اچھی پلاننگ کے فقدان کے باعث پولیس کےافسران اور اہلکار  بکتر بند گاڑیوں میں  بھی فائرنگ کانشانہ بن کرشہید ہوجاتے ہیں جبکہ ڈاکو اینٹی ائیر کرافٹ گنز اور جی تھری جیسے لانگ رینج اسلحے کا استعمال کرتے ہیں۔

نیا طریقۂ واردات

 گزشتہ چند سالوں سے ڈاکوؤں نے اپنی اغوا برائے تاوان کی حکمت عملی بھی بدل لی اور ہنی ٹریپ کا طریقہ استعمال کر رہے ہیں۔ خاتون کی آواز میں باتیں کرتے ہیں، شکار کو پھنساتے ہیں اورجب خاتون سے ملاقات کی آس لگائے کوئی شخص ڈاکوؤں کے بتائے گئے مقام پر پہنچتا ہے تو آسانی سے مسلح افراد اسے اغوا کرلیتے ہیں۔ 

وائس اوور سافٹ وئیر کا استعمال 

 ڈاکو مختلف وائس اوور سافٹ ویئرز کا استعمال کرتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی ہنی ٹریپ کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ ڈی آئی جی لاڑکانہ کا کہنا ہے کہ سکھر رینج سے سامنے آنے والے چند کیسز میں تو خواتین براہ راست بھی افراد کو اغوا کروانے میں ملوث نکلیں۔ چند ایک گرفتار بھی ہوچکی ہیں۔

دونوجوان اغواء

 ضلع قمبر شھدادکوٹ میں تحصیل وارہ کے گاؤں پیر علی اصحابو سے دو نوجوان، عزیر تنیو اور بشیر چانڈیو کو اغواء کیا گیا۔ دونوں نوجوانوں کا تعلق ایک ہی گاؤں سے ہے جب کہ دونوں اغوا چند روز کے فاصلے سے ہوئے۔

پولیس کاموقف
ہنی ٹریپ کے متعلق پولیس کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ضلع گھوٹکی سے شروع ہوا اور اب بھی سب سے زیادہ وہیں ہے۔ ڈی آئی جی لاڑکانہ کا کہنا تھا کہ زیادہ تر لوگ شرم کے باعث مقدمہ درج نہیں کرواتے، اس لیے کوئی کارروائی بھی نہیں ہوئی۔

گزشتہ ایک سال سے لاڑکانہ ڈویژن کی پولیس نے ہنی ٹریپ کے کیسز پر کام کیا اور سب سے پہلے کیسز کو سمجھنے کی کوشش کی کہ کس طرح لوگ اغواء ہوئے اور اب انہیں بازیاب کرانے کی کیا صورت ہوسکتی ہے۔ 

بعد ازاں پولیس کی جانب سے کچے کے موبائل ٹاورز کی ٹریفک کو جانچا گیا، کال ڈیٹا ریکارڈ نکلوا کر پولیس نے عوامی آگاہی مہم بھی چلائی، شہروں میں ہورڈنگز لگوائے اور پھر پولیس موبائل ٹاورز پر کالرز کو مانیٹر بھی کیا گیا۔

رواں برس 2022 میں 370 سے زائد افراد کو اغوا ہونے سے بچایا گیا ہے جنہیں پولیس نے فون کر کے بتایا کہ آپ جس سے بات کر رہے ہو وہ ڈاکو ہیں اور خاتون کی آواز کا جھانسہ دے کر بات کر رہے ہیں۔اس طرح یہ لوگ ڈاکوؤں سے بچ نکلے۔ 

مقابلےاورہلاکتیں 

 گزشتہ ایک سال کے دوران پولیس مقابلوں کے دوران  62 ملزمان کو ہلاک اور 200 سے زائد کو زخمی حالت میں گرفتار کیا تاہم مزید ڈاکوؤں کی گرفتاری اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔

اس اشاعت میں انڈپینڈنٹ اردوکی خبرسےانٹرویوکاکچھ حصہ لیاگیاہے،بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو۔

Related Posts