اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے امریکی رابن رافیل سے ملاقات کی تصدیق کردی۔
نجی چینل کو انٹرویو کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ رابن رافیل کو پہلے سے جانتا ہوں، وہ امریکن گورنمنٹ کے ساتھ نہیں بلکہ اُن کے تھنک ٹینک کے ساتھ ہیں، عمران خان نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے چاہئیں۔
عمران خان نے کہا کہ روس کا دورہ کیا اسی کے بعد جنگ شروع ہو گئی ادھرسے ٹینشن شروع ہوئی، روس کے دورے کے بعد روس، یوکرین جنگ شروع ہو گئی، مجھے کیا پتا تھا کہ روس، یوکرین کی جنگ شروع ہوجائے گی، دوطرفہ تعلقات اونچ نیچ ہوتی ہے اور مسائل حل ہوجاتے ہیں، امریکا سے جب تجارت ہو گی تو پاکستان کو فائدہ ہوگا۔
الحمدللّہ؛ ایک بار پھر میری خبر سچ ثابت ہوئی! ???? عمران خان نے خود تسلیم کر لیا کہ کل اُنکی امریکی رابن رافیل سے ملاقات ہوئی۔ فواد چوہدری نے بھی ملاقات کی تصدیق کر دی۔ اب وہ تمام لوگ جو میری اس خبر کو غلط قرار دے رہے تھی؛ کیا اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے معافی مانگیں گے۔۔۔!؟ pic.twitter.com/ftOPgTCcCh
— Gharidah Farooqi (@GFarooqi) September 12, 2022
عمران خان نے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات اچھے ہونے چاہئیں، امریکا میں ہماری بڑی طاقتور کمیونٹی ہے، امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہوں، صرف پاکستان کو کسی کی جنگ میں استعمال نہ کیا جائے، ہمیں کسی کی طرف جھکاؤ نہیں رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میرے ڈونلڈ ٹرمپ سے بڑے اچھے تعلقات تھے، میرا امریکا سے کوئی مسئلہ نہیں، امریکا کی جنگ میں شرکت کر کے ہمیں ذلت ملی، میوچل ریسپکٹ پر امریکا سے تعلقات چاہتا ہوں، امریکا کی غلامی نہیں دوستی چاہتا ہوں۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ یورپی یونین سے میرے بڑے اچھے تعلقات تھے، بورس جانسن، ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی بڑے اچھے تعلقات تھے، امریکی دورے میں ٹرمپ نے مجھے بہت عزت دی، امریکی جن کے پیسے باہر ہوں ان کی وہ عزت نہیں کرتے، امریکا سے تھوڑی ناراضگی ہوئی کوئی اینٹی امریکن نہیں ہوں، میرا کام پاکستان کے مفاد کو تحفظ کرنا ہے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ عدالت میں مجھے موقع ملتا تو جو وہ چاہتے تھے وہ بات شائد کہہ دیتا، شہباز گل کو اغوا کر کے مار مار کر بھرکس نکال دیا گیا، پی ٹی آئی رہنما نے میسج بھیجا اب برداشت نہیں کرسکتا، کہا جا ہا ہے عمران خان کے خلاف بیان دو، ٹی وی پرشہبازگل کی فوٹیج دیکھی تو کہا جن لوگوں نے واپس ریمانڈ پر بھیجا ان کیخلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
مزید پڑھیں:عمران خان کی جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی تجویز
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








