کراچی میں پولیس سے بچنے کے لئےسرجیکل ماسک ملزمان کے بچنے کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا۔
شہر میں اسٹریٹ کرائم سمیت دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ملزمان کی شناخت پولیس کے لیے مسئلہ بن گئی ہے کیونکہ اکثر کارروائیوں میں ملزمان ماسک پہن کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔
ماسک پہننے کی وجہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج ملنے کے باوجود پولیس کے لیے ملزمان کی شناخت کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
کراچی یونیورسٹی میں اپریل میں چینی اساتذہ پر ہونے والے حملے کے ماسٹر مائنڈ کمانڈر زیب نے بھی ماسک پہن رکھا تھا جسکی وجہ سے اسکا چہرہ واضح طور پر نظر نہیں آیا۔
دوسری جانب گذشتہ دنوں صدر میں ڈینٹل کلینک پر ہونے والے حملے میں بھی دہشت گرد نے ماسک اور کیپ پہن رکھی تھی۔
رواں برس بینک سے کیش لیکر نکلنے والے شہریوں سے لوٹ مار کے واقعات بھی بڑھے ہیں، جبکہ رواں سال اب تک شہر کے مختلف علاقوں میں ڈکیتی مزاحمت پر 75افرادقتل ہوچکے ہیں۔
بینک سے کیش لیکر نکلنے والے شہریوں کی ریکی بھی اب آسان ہو گئی ہے کیونکہ ملزمان کا ایک ساتھی ماسک پہن کر بینک میں جاتا ہے اور وہاں سے رقم کی ساری معلومات لیکر اسکی اطلاع باہر اپنے ساتھیوں کو دیتا ہے۔
پہلے ملزمان اپنی شناخت چھپانے کے لئیے ہیلمٹ کا استعمال کرتے تھے تاہم اب وہ ماسک اور کیپ کا استعمال کر رہے ہیں جسکی وجہ سے وارداتوں کی تفتیش میں پولیس کو مشکلات کا سامنا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








