سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کے مضافات میں قائم ٹینٹ سٹی میں کسی بھی قسم کی سہولت اور امداد نہ ہونے کے باعث انتہائی المناک داستانیں سامنے آ رہی ہیں، خیمہ بستی میں ڈینگی سے انتقال کرنے والی دو بہنوں کے لواحقین کے پاس کفن دفن تک کے پیسے نہ ہونے کا افسوسناک انکشاف ہوا ہے۔
خیمہ بستی میں مقیم بد قسمت بچیوں کے ماموں نے ایم ایم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں مچھروں کی بہتات ہے، جن میں یقینا ڈینگی مچھر بھی موجود ہیں اور ان سے بچنے کا کوئی انتظام نہیں ہے، انہوں نے بتایا کہ مچھروں کے کاٹنے سے ان کی دو بھانجیوں کو کچھ دن پہلے ڈینگی بخار ہوا، علاج کیلئے بچیوں کو جناح اسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکیں۔
یہ بھی پڑھیں:
سندھ حکومت ٹینٹ سٹی قائم کرکے سہولتیں دینا بھول گئی، متاثرین بے یار و مددگار
بچیوں کے ماموں نے بتایا کہ ہمارے پاس ان معصوم لاشوں کو کفنانے دفنانے کیلئے درکار معمولی رقم بھی موجود نہ تھی، انہوں نے بتایا کہ انہوں نے انتظامیہ سے بات کی اور بچیوں کو دفنانے کیلئے تعاون کی درخواست کی مگر موقع پر موجود افسران نے وعدے کے باوجود اس نازک موقع پر ان کی کوئی مدد نہ کی۔
اس موقع پر ایک اور خاتون نے بتایا کہ ان کی ایک رشتہ دار بچی کا بھی ڈینگی سے انتقال ہوگیا تھا، اس بچی کے والدین بھی اسی طرح کی کس مپرسی سے دوچار تھے۔ خاتون نے بتایا کہ بچی کے اہل خانہ کی اس سلسلے میں تعاون کیلئے براہ راست ڈی سی صاحب سے بات ہوئی، تاہم ڈی سی صاحب نے نہایت غیر انسانی رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ اگر پیسے نہیں ہیں تو بچی کی لاش گلی میں پھینک دو۔
یاد رہے کہ یہ ٹینٹ سٹی سندھ حکومت نے قائم کیا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ یہاں متاثرین کو ہر طرح کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ متاثرین اس دعوے کی شدت سے تردید کرتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت نے انہیں یہاں لا کر بسا دیا ہے تو ان کی بنیادی ضرورت کے سامان کا انتظام بھی کرے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








