پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ابتدائی تجارت کے دوران شیئرز کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی جبکہ معاشی تجزیہ کاروں نے اسے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے منسوب کیا ہے۔
کاروبار کے اختتام پر اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک ’کے ایس ای-100 انڈیکس‘ 462.53 پوائنٹس یا 1.1 فیصد کمی کے بعد 41 ہزار 140 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔
ابا علی حبیب سیکیورٹیز کے سلمان نقوی نے بتایا کہ مارکیٹ گزشتہ کئی دن سے دباؤ کا شکار ہے، اس کی بنیادی وجہ سیاسی عدم استحکام اور پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ہے، جس کا آغاز آج لاہور سے ہوگیا ہے، مارچ نے غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
لاہور میں لبرٹی چوک پر بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کے سپورٹرز جمع ہوئے، جہاں سے عمران خان نے حکومت مخالف مارچ کا آغاز کیا، جو کہ اسلام آباد میں 4 نومبر کو پہنچے گا، لانگ مارچ کا مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے کہ ملک میں جلدی انتخابات کروائے جائیں۔
سلمان نقوی نے بتایا کہ سرمایہ کار پچھلی نشستوں پر چلے گئے ہیں، انہیں ملک میں امن و امان کی مخدوش صورتحال بڑھنے کا خدشہ ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کم از کم 13 ہزار 86 اہلکار وفاقی دارالحکومت میں تعینات کیے گئے ہیں جن میں اسلام آباد پولیس کے 4 ہزار199 اہلکار، سندھ پولیس کے ایک ہزار 22، ایف سی کے 4 ہزار 265 اور رینجرز کے 3 ہزار 600 اہلکار شامل ہیں، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے آج خبردار کیا تھا کہ اگر شرکا نے قانون توڑنے اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی تو حکومت لانگ مارچ کے شرکا سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
سلمان نقوی نے اسٹاک مارکیٹ میں مندی کو ‘رول اوور ہفتہ’ (یعنی یہ صورتحال آگے بھی جاری رہے گی) قرار دیا، اور اگلے مہینے اسٹاک مارکیٹ میں فروخت کو دباؤ ہوگا۔
تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ ملک کی سیاسی صورتحال اگلے ہفتے مارکیٹ کی سمت کا تعین کرے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








