اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی مری روڈ پر ریلی کے دوران عمران خان کے کنٹینر پر حملے کی خبر کے بعد کارکنان مشتعل ہو گئے، آگ لگا کر فیض آباد کے قریب سے مری روڈ کو آمد و رفت کے لیے بند کر دیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے مری روڈ پر مشعل بردار ریلی کا اعلان کیا گیا تھا، عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ کی خبر آنے کے بعد کارکنان غصے میں آگ بگولا ہوگئے اور پیدل ہی رحمان آباد سے شمس آباد کی جانب ریلی لے کر روانہ ہوگئے۔
شرکاء ریلی کی جانب سے شدید نعرے بازی بھی کی گئی، ریلی سے ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب فیاض چوہان،مستعفی ایم این اے کنول شوزب اور اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم عباسی نے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو خوب آڑے ہاتھ لیا۔
ریلی کے شرکاء پی ٹی آئی قائدین کے ساتھ فیض آباد کے مقام پر پہنچے جہاں مشتعل کارکنان نے ٹائروں کو آگ لگا کر فیض آباد سے راولپنڈی آنے اور جانے والی سڑکوں کو مکمل طور پر بلاک کر دیا۔
دوسری جانب فیض آباد پر اسلام آباد والی سمت ہے اسلام آباد پولیس،الیٹ فورس اور ایف سی اہلکار کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے بھاری تعداد میں موجود ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے فیض آباد کے مقام پر احتجاج جاری ہے، مقامی قیادت کی کال پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کے فیض آباد کے مقام پر جمع ہوچکے ہیں۔
مظاہرین کی جانب سے ٹائر جلا کر فیض آباد سے اسلام آباد جانے والی سڑک کو بلاک کر دیا گیا، مظاہرین کی جانب سے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی جاری ہے۔
کارکنان کی جانب سے امپورٹڈ حکومت نامنظور نامنظور کے نعرے،کارکنا ن کا فیض آباد کی جانب مارچ، جڑواں شہروں کے سنگم فیض آباد میں وفاقی پولیس کے مزید دستے تعینات کر دیئے گئے۔
کراچی میں احتجاج
عمران خان کے کنٹینر پر حملے کی خبر کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے، جبکہ کارکنان کی جانب سے سہراب گوٹھ، لیاری، قیوم آباد، شاہراہ فیصل اور دیگر علاقوں میں احتجاج کیاجارہا ہے۔
مزید پڑھیں:لانگ مارچ، کنٹینر کے قریب فائرنگ، عمران خان سمیت متعدد رہنما زخمی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








