لندن: امریکی محکمہ انصاف کے بائننس کی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ کرپٹو ایکسچینج بائننس نے پابندیوں کے باوجود ایرانی فرموں کو 8 ارب ڈالر کی تجارت میں مدد کی۔
تین چوتھائی ایرانی فنڈز جو Binance سے گزرے وہ نسبتاً کم پروفائل کرپٹو کرنسی میں تھے جسے Tron کہتے ہیں جو صارفین کو اپنی شناخت چھپانے کا اختیار فراہم کرتی ہے۔ بلاک چین ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود کرپٹو کمپنی بائننس نے 2018ء سے اب تک 8 ارب کی مالیت کے ساتھ ایرانی کمپنی سے لین دین کیا۔
قبل ازیں امریکہ کی جانب سے ایرانی کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم کرپٹو ایکسچینج بائننس نے رازداری سے ایرانی فرموں کو تجارت کرنے میں مدد کی۔
سنگاپور میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے سے سرحد پار ادائیگیوں کی منظوری دیدی گئی
دوسری جانب غیرملکی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ کی سب سے بڑی سپر مارکیٹ ’پک این پے‘ نے کرپٹو کرنسی کے استعمال کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
پہلے مرحلے میں تسلی بخش کامیابی کے بعد سپرمارکیٹ کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کرپٹو کرنسی کو اپنے دیگر سپر اسٹورز میں بھی ادائیگی کیلئے استعمال کرے گی۔
سپر اسٹور کی جانب سے کرپٹو کرنسی کی ادائیگی کو قبول کرنے کا یہ اعلان جنوبی افریقہ کی فنانشل سیکٹر کنڈکٹ اتھارٹی کی جانب سے کرپٹو کرنسی کو باضابطہ طور پر مالیاتی مصنوعات کے طور پر اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








