دبئی: ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ مغربی ممالک ملک میں ہونے والے مظاہروں میں ملوث تھے۔
22 سالہ کرد ایرانی خاتون مہسا امینی کی ”نامناسب لباس” کی وجہ سے گرفتاری اور موت کے بعد شروع ہونے والے یہ مظاہرے 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد حکومت کے لئے مضبوط چیلنجوں میں سے ایک ہیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے مزید کہا کہ ہمارے پاس معلومات ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ احتجاج میں امریکہ، مغربی ممالک اور کچھ امریکی اتحادیوں کا کردار رہا ہے۔
ترجمان ناصر کنانی نے کہا کہ ایران اقوام متحدہ کی حقوق کونسل کی تشکیل کردہ سیاسی کمیٹی کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کرے گا۔
اقوام متحدہ کی حقوق کونسل نے جمعرات کو ایران میں مظاہروں کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن کی تحقیقات کے لیے ووٹ دیا۔
اقوام متحدہ کے حقوق کے کمشنرنے اس سے قبل ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 16 ستمبر کو 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی حراست میں ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کو کچلنے کے لیے طاقت کا ”غیر متناسب” استعمال بند کرے۔
مزید پڑھیں:کینیڈا نے ویزہ آفس ابوظہبی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا
سرگرم خبر رساں ایجنسی HRANA نے کہا کہ 26 نومبر تک ملک گیر بدامنی کے دو ماہ سے زائد عرصے میں 450 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 63 نابالغ بھی شامل ہیں۔ یہی نہیں سیکورٹی فورسز کے 60ارکان بھی اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








