پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے دیے گئے ایک بیان نے سوشل میڈیا صارفین خصوصاً پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حامیوں اور مخالفین کو آمنے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا مذکورہ بیان سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے اور اس پر خوب تنقید بھی کی جارہی ہے۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ کہتے ہیں ”نعوذباللہ ایسے ایسے لوگ جو کہتے ہیں کہ اگر ہماری ماں کے ساتھ زنا کرے گا تب بھی ہم اس کو ووٹ دیں گے، ایسی ایسی نوجوان لڑکیاں جو کہتی ہیں میرا جی چاہتا ہے کہ وہ کسی وقت میرے بیڈروم میں آجائے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ معاشرہ پیدا کیا جارہا ہے یہ اخلاق پیدا کئے جارہے ہیں، نوجوان نسل کو اس طرح گمراہ کیا جارہا ہے، اور پھر کہتے ہیں کہ ہم خاموش رہیں؟“
یہ خود کو عالم دین کہلاتا ہے۔ نفرت، جھوٹ اور بہتان کا چلتا پھرتا نمونا۔ سیاست کے لیے بے شرمی کی آخری حد سے بھی تجاوز
pic.twitter.com/Xfh4OlUz50— Imran Khan (@ImranRiazKhan) November 28, 2022
معروف صحافی عمران ریاض خان نے پی ڈیم ایم سربراہ کے اس بیان کو “ نفرت، جھوٹ اور بہتان کا چلتا پھرتا نمونہ“ قرار دیا تو کچھ سوشل میڈیا صارفین نے مولانا کے بیان کے حق میں ثبوت پیش کرنے شروع کردیے۔
مولانا فضل الرحمان نے ایک ویڈیو کا تذکرہ کرتے ہوئے جلسہ میں چھوٹے بلب سے روشنی ڈالی اور تحریکِ انصاف والے برا مان گئے
ویڈیو????
pic.twitter.com/vAd1S4IxXE— Raja Kabeer ™ (@kabeerraja786) November 28, 2022
ایک طرف جہاں مولانا کے بیان پر تنقید جاری تھی تو دوسری جانب پی ٹی آئی کے سپورٹرز نے تاویلیں پیش کرنی شروع کردیں اور ان متنازع بیانات پر جواز پیش کرنے شروع کردیے۔
مولانا کی دوسری بات کا ثبوت ! pic.twitter.com/8u82KQVwBE
— SAJJAD (@AHMEDSAJJADRANA) November 28, 2022
ایک ٹوئٹر صارف نے خاتون سپورٹر کے بیان کو نجی چینل کی جانب سے پلانٹڈ قرار دیا۔
تو ایک اور تاویل پیش کی کہ ”نکاح کا کہا، زنا تو نہیں۔“
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








