رواں سال 16 ستمبر کو ایک 22 سالہ ایرانی خاتون مہسا امینی، پولیس کی حراست کے دوران تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئی، مہسا امینی کو حجاب نہ پہننے کی وجہ سے پولیس نے گرفتار کیا تھا۔
مہسا امینی کی موت کے بعد ایران میں مظاہروں کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا، جس میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے شامل ہیں، اِن مظاہروں کو روکنے کیلئے ایرانی پولیس ہر طرح کے اقدامات کررہی ہے جس کیلئے وہ طرح طرح کے حربے بھی استعمال کررہی ہے۔
ایران کے انسانی حقوق کے ادارے کے مطابق اب تک مظاہروں کے نتیجے میں کم ازکم 402 افراد جن میں 43 بچے اور 26 خواتین شامل ہیں ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد کےزخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہی نہیں بلکہ پولیس نے کم ازکم 16،800 افراد کو حراست میں بھی لیاہے۔
ایران ہیومن رائٹس کے مطابق، کم از کم 402 افراد، جن میں کم از کم 43 بچے اور 26 خواتین شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں، حالانکہ وسیع پیمانے پر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نے ہلاکتوں کی تصدیق کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی نیوز ایجنسی کے مطابق کم از کم 16,800 کو گرفتار کیا گیا ہے۔
مہسا امینی، جسے جینا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایران کے صوبہ کردستان کے مغربی شہر ساقیز سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ خاتون تھی۔
مہسا امینی کو ایرانی اخلاقی پولیس کی جانب سے اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ تہران جارہی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق دوران ِ حراست اسے مبینہ طور پر مارا پیٹا گیا۔ جس دوران وہ کومے میں چلی گئی تھی اور بعد میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئی تھی۔
اُن کی موت کے بعد ایرانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ مہسا امینی کو ایرانی ڈریس کوڈ کے قانون کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا تھا۔ تاہم، امینی کی والدہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بیٹی نے لمبا اور ڈھیلا لباس پہن رکھا تھا۔
ایرانی پولیس کے مطابق مہسا امینی کو حراست کے دوران دل کا دورہ پڑا تھا جس کی وجہ سے اُس کی موت ہوگئی۔ دوسری جانب امینی کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ امینی کی صحت بالکل ٹھیک تھی۔
مہسا امینی کی موت کے بعد سے ایران بھر میں خواتین کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں، ایرن میں خواتین نے احتجاج کے طور پر عوامی مقامات پر اپنے حجاب اُتار دیے جبکہ کچھ خواتین نے بال کاٹ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔
علاوہ ازیں استنبول، تہران اور دیگر شہروں میں ایرانی قونصل خانے کے باہر مظاہرے ہورہے ہیں۔ دنیا بھر میں خواتین کو حجاب جلاتے ہوئے اور ایرانی لیڈر علی خمینی کے خلاف نعرے بلند کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
ایرانی شہر کرمان میں جہاں پر خواتین کا عوامی جگاؤں پر حجاب پہننا ضروری ہے، میں کئی خواتین حجاب کے بغیر منگل کو امینی کی موت کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں۔
ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی بھانجی کی گرفتاری
ایران میں حکومت مخالف بیان پر سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کی بھانجی کو بھی گرفتارکرلیا گیا۔ خامنہ ای کی بھانجی فریدہ مرادخانی نے ایک ویڈیو بیان ایرانی حکومت کو قاتل اور ظالم کہا تھا۔ انہوں نے عالمی برادری سے کہا تھا کہ وہ ایران کی حمایت کرنا بند کردے، فریدہ مرادخانی اس سے پہلے بھی جیل جاچکی ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ان کے بھائی محمود مرادخانی نے لکھا کہ بدھ کو انھیں پراسیکیوٹر کے دفتر طلب کیا گیا تھا جہاں سے انہیں گرفتارکیا گیا۔
فریدہ مرادخانی نے ایک ویڈیو میں ایرانیوں کو واضح مظالم کا نشانے بنانے کی مذمت کی اور اس حوالے سے عالمی برادری کی جانب سے کچھ نہ کرنے پر تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو آزاد کریں، ہمارے ساتھ آئیں اور اپنی حکومت کو کہیں کہ قاتلوں اور بچوں کو مارنے والے دور کی حمایت کرنا ختم کریں۔ ان کے خلاف الزامات کی فوری طور پر وضاحت نہیں ہوسکی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








