کراچی: پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ پولٹری کی صنعت کو بند ہونے سے روکیں جبکہ پولٹری سستی ترین اور ہائی پروٹین معیاری خوراک ہے۔
تفصیلات کے مطابق ویڈیو شیئرنگ کی سب سے ویب سائٹ یو ٹیوب پر جاری اپنے ایک ویڈیو بیان میں پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کیا حکومت نے پولٹری کی صنعت کو بند کرنے کا تہیہ کر لیا ہے؟ جبکہ ملک بھر میں 25 ہزار سے زائد پولٹری فارمز موجود ہیں۔
سی پیک وفاقی حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔احسن اقبال
ویڈیو بیان میں پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 25 ہزار پولٹری فارمز سے ہر روز 50 لاکھ مرغیاں اور ساڑھے 3 کروڑ انڈے حاصل ہوتے ہیں جن پر 5ہزار ٹن سویا بین میل یومیہ کی کھپت ہوتی ہے جبکہ پولٹری فیڈ کیلئے سویابین میل کا کوئی متبادل نہیں۔
پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 20 اکتوبر سے کلیرنس بند کردی گئی۔ ملک بھر میں برآمد کیے گئے سویا بین اور کنولا کو محکمۂ خوراک نے کلیرنس سے روک دیا جس سے 450ملین ڈالر مالیت کا 6 لاکھ ٹن سے زائد سویا بین اور کنولا متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
پولٹری ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سویا بین اور کنولا گزشتہ 20 سالوں سے پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں استعمال ہورہی ہیں۔ ہم وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے معاملے میں فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہیں۔ سویا بین اور کنولاکے جہازوں کو فی الفور کلیرنس دی جائے۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر ہماری بندرگاہوں پر موجود سویا بین اور کنولا کو فوری طور پر کلیئرنس نہ دی گئی تو پولٹری کی صنعت پر کی گئی کھربوں کی سرمایہ کاری ڈوب جائے گی جو سالانہ 1200ارب کا کاروبار کرتی ہے اور اس سے 15لاکھ سے زائد افراد بے روزگار ہوجائیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








