اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے ہزاروں گھروں کو مسمار کرنے کی تیاری، بھارتی میڈیا خاموش

تازہ ترین

تازہ ترین

نئی دہلی: بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے ہزاروں گھروں کو مسمار کرنے کی تیاری جاری ہے جس پر بھارتی میڈیا خاموش نظر آتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اتراکھنڈ کے ضلع نینی تال میں واقع قصبہ ہلدوانی میں لاکھوں افراد خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ مقامی انتظامیہ ہزاروں مکانات مسمار کرنے کیلئے نوٹس جاری کرچکی ہے جس کا کہنا ہے کہ مکانات غیر قانونی ہیں جنہیں 78 ایکڑ ریلوے اراضی پر تعمیر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:

پڑوسیوں کا احترام کرتے ہیں۔ راج ناتھ سنگھ

https://twitter.com/Dr_SQRIlyas/status/1609782077330948097

اتراکھنڈ ہائیکورٹ کے حکم پر مکانات مسمار کرنے کیلئے نشانات بھی لگا دئیے گئے۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بیشتر مکانات کی تعمیر شاندار ہے۔ کم وبیش 4 ہزار 500 سے زائد مکانات منہدم کردئیے جائیں گے۔ انتظامیہ نے نام نہاد تجاوزات ہٹانے کیلئے تیاریاں شروع کردیں۔

متاثرین نے ہزاروں کی تعداد میں اتراکھنڈ حکومت کے خلاف کینڈل مارچ کے دوران مظاہرہ کیا جس میں خواتین، بچے اور عمر رسیدہ افراد بھی بڑی تعداد میں شامل تھے۔ متاثرین نے مطالبہ کیا کہ اگر رہائشی عمارتیں مسمار کرنی ہیں تو ہمیں کسی دوسری جگہ گھر دیا جائے۔

اتراکھنڈ ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے متاثرین نے سپریم کورٹ میں بھی اپیل کی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے آباو اجداد کئی عشروں سے اس زمین پر آباد ہیں، اب ریلوے ہماری زمین کو اپنی ملکیت بتا رہا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت متاثرین کو بے گھر کرنا چاہتی ہے۔

 

Related Posts