سخت فیصلوں میں تاخیر سے معیشت کانقصان ہو رہا ہے،میاں زاہد حسین

تازہ ترین

تازہ ترین

سخت فیصلوں میں تاخیر سے معیشت کانقصان ہو رہا ہے،میاں زاہد حسین
سخت فیصلوں میں تاخیر سے معیشت کانقصان ہو رہا ہے،میاں زاہد حسین

کراچی:نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ غیر مقبول فیصلوں میں تاخیر اور آئی ایم ایف کے مطالبات نظر انداز کر نے سے ملک کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہو رہا ہے۔

وزیرخزانہ کے مطابق اب آئی ایم ایف کا نوواں اور دسواں ریویوایک ساتھ ہوں گے جس سے معاملات میں تاخیر کا پتہ چلتا ہے۔ اگر اب بھی مالی ڈسپلن کی کڑوی گولی نہ نگلی گئی تو وقت ہاتھ سے نکل جائے گا۔

سفید ہاتھی بن جانے والے انفراسٹرکچر منصوبوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عوام اور تاجر برادری گوادر سے آنے والی پریشان کن خبروں سے بے چین ہیں اور اس سے گوادر میں سرمایہ کاری متاثر ہوگی۔

گوادر میں لوگ اپنے بنیادی حقوق مانگ رہے ہیں اور نظر انداز کئے جانے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ گوادر ملک کے لیے بہت اہم ہے اس لیے مقامی آبادی میں پائی جانے والی بے چینی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

کراچی کے بعد گوادر دوسری اہم ترین بندرگاہ ہے اور پاکستان کا مستقبل اسی سے جڑا ہوا ہے اس لیے مقامی آبادی کے مسائل حکام کی پوری توجہ کے مستحق ہیں۔

گوادر کے بغیر سی پیک کا تصور بھی محال ہے اس لئے اس علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھا جائے۔ مقامی لوگ اپنے پانیوں میں ماہی گیری کی سہولت، بارڈر ٹریڈ، صاف پانی، بجلی، ملازمتوں کے مواقع، صحت اور تعلیم کی مناسب سہولیات کی فراہمی چاہتے ہیں تاکہ ان کا طرز زندگی بہتر ہو سکے۔

مقامی ماہی گیروں کو شکایت ہے کہ سینکڑوں بڑے ٹرالر گہرے پانیوں میں مچھلیاں پکڑتے رہتے ہیں جس سے مقامی لوگ ماہی گیر آمدن کی زریعے سے محروم ہورہے ہیں جس کے نتیجے میں غربت اور بھوک بڑھ رہی ہے۔

بندرگاہ کے فعال ہونے پر اعلیٰ حکام نے مقامی لوگوں سے ملازمتوں اورمعاملات میں بھرپور شرکت کا وعدہ کیا تھا جس پر عمل نہیں ہو سکا۔

مزید پڑھیں:زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، اسٹیٹ بینک نے رپورٹ جاری کردی

سی پیک اور بلوچستان کے بارے میں فیصلے مقامی باشندوں کے مفادات اور ترجیحات کو مدنظر رکھے بغیر کیے جاتے ہیں اس لیے وہ ایسے تمام منصوبوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

Related Posts