سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے جمعہ کو کہا کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے خلاف اعتماد کے ووٹ کے معاملے میں غیر جانبدار نظر نہیں آرہی۔
آج لاہور میں کورٹ رپورٹرز کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اگر عدالت وزیراعلیٰ پنجاب کو ایسا حکم دیتی ہے تو پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتیں اعتماد کے ووٹ کی تیاری کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں کو اعتماد کے ووٹ میں پرویز الٰہی کے خلاف ووٹ دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اب تک، ہمارے کم از کم تین اراکین صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) نے اسٹیبلشمنٹ کے لوگوں سے رابطہ کرنے کی تصدیق کی ہے،”۔
فواد چوہدری کی جانب سے اس سے قبل دیے گئے ایک بیان کے مطابق11 جنوری سے پہلے، جب لاہور ہائی کورٹ گورنر کے ڈی نوٹیفکیشن کے خلاف وزیراعلیٰ پنجاب کی درخواست پر دوبارہ سماعت شروع کرے گی، تو پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ لیں گے۔
پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نہیں ہیں، لیکن ان کی جدوجہد لاقانونیت اور ناانصافی کے خلاف ہے۔
عمران خان نے نام لیے بغیر اس بات کا اعادہ کیا کہ سابق آرمی چیف بدعنوانی کو خطرہ نہیں سمجھتے تھے اور کرپٹ سیاستدانوں کے لیے نرم پالیسی رکھتے تھے۔”یہی وجہ ہے کہ اس وقت ملک پر بدمعاشوں کا راج ہے۔”
جنرل قمر باجوہ (ریٹائرڈ) کے بارے میں پرویز الٰہی کے بیان سے متعلق سوال پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) اتحادی جماعتیں ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے آزاد پالیسیاں ہیں۔
پی ٹی آئی کے سربراہ نے عدالتی نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’چوروں‘ سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی اقتدار میں آنے کے بعد فوری طور پر لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کرائے گی۔
مزید پڑھیں:امن کیلئے بشار الاسد سے بھی ہاتھ ملا سکتا ہوں، ترک صدر
عمران خان نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے بیانیے سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور وہ ان لوگوں کو بے نقاب کرتے رہیں گے جو ملک میں بحران کی وجہ ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








