جوشی مٹھ: بھارت کے مختلف علاقوں میں زمین کھسکنے سے سیکڑوں گھروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ ہزاروں افراد کی نقل مکانی کی وجہ بننے والے اس واقعے کو قومی سانحہ قراردیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق جوشی مٹھ کے علاوہ اترکاشی اور نینی تال میں بھی زمین کھسکنے لگی۔ ہزاروں افراد اپنی رہائش گاہوں کو چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ جوشی مٹھ پر انسان کی بنائی ہوئی آفت نازل ہوئی اور حکومت اس سے نمٹنے میں ناکام ہے۔
عرب امارات کا ہولو کاسٹ کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا اعلان
کانگریس رہنماؤں پون کھیڑا، دیویندر یادو اور منیش کھنڈوری نے مطالبہ کیا کہ مودی حکومت زمین کھسکنے کے معاملے کو قومی آفت قرار دے اور حکومت تمام تر ایسے پراجیکیٹس پر کام فوری بند کردے جو اس آفت کی وجہ قرار دئیے جارہے ہیں۔ حکومت کا متاثرین کیلئے 5 ہزار روپے معاوضے کا اعلان مضحکہ خیز اور متاثرین سے مذاق ہے۔
مودی حکومت کو جوشی مٹھ بحران پر توجہ دینا ہوگی۔ کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کو عوامی مسائل کا فوری ازالہ کرنا ہوگا جبکہ جوشی مٹھ کے لوگ مظاہرے کر رہے ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ چاردھام اسکیم کے تحت ہیلانگ روڈ پر ہونے والی تعمیرات روک دی جائیں، ٹنل پر دھماکہ نہ کیا جائے۔ عوام کی انشورنس کروانے کا بھی مطالبہ کیا جارہا ہے۔ خاندانوں کے خاندان تباہ ہو رہے ہیں۔
خیال رہے کہ جوشی مٹھ وہ پہلا علاقہ ہے جہاں زمین کھسکنے سے گھروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ جوشی مٹھ انسانی ساختہ آفت اس لیے ہے کیونکہ حکومت کو 70 کی دہائی سے یہ علم تھا کہ اگر اس علاقے میں بلند و بالا عمارتیں تعمیر کی گئیں تو زمین کھسک جائے گی۔
اترکاشی، نینی تال، جوشی مٹھ کے علاوہ جیو تیرمٹھ، لکشمی نارائن مندر اور راجرا جیشوری مندر کے علاقوں میں بھی دراڑیں پڑ گئیں۔ دکانیں، مندر اور گھر ٹوٹنے لگے جس پر کانگریس نے برہمی کا اظہار کیا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی وزیر اعلیٰ ترویندر سنگھ راوت کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔
کانگریس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ صرف 2 گھنٹے کیلئے جوشی مٹھ گئے اور حالات کا جائزہ لیا تاہم اس پر فوری ایکشن لیا جانا چاہئے تھا۔ ہم ایک وفد کی صورت میں وزیر اعلیٰ اور گورنر سے ملاقات کریں گے۔ ہماری کمیٹی جوشی مٹھ میں عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کرے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








