سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی کا قتل، ملزم کا 2روزہ ریمانڈ منظور

تازہ ترین

تازہ ترین

عدالت نے سینئر قانون دان اور سابق صدر سپریم کورٹ بار کے قتل کے جرم میں ملزم کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 80 سالہ لطیف آفریدی کو ملزم نے پشاور ہائیکورٹ کے بار روم میں فائرنگ کا نشانہ بنایا جن کو فوری طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال طبی امداد کیلئے لے جایا گیا، تاہم وہ انتقال کر گئے۔ہسپتال ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں مردہ حالت میں ہسپتال لایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:

معروف قانون دان عبداللطیف آفریدی فائرنگ سے جاں بحق

ترجمان لیڈی ریڈنگ ہسپتال نے مزید کہا کہ لطیف آفریدی کو 6 گولیاں لگی تھیں۔ گرفتار ملزم عدنان سمیع آفریدی کو پشاور کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ بدر منیر نے لطیف آفریدی کے اندوہناک قتل سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزم عدنان سمیع آفریدی کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ ملزم کی گرفتاری گزشتہ روز ہی عمل میں لائی گئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم مقتول کا رشتہ دار ہے اور واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ محسوس ہوتا ہے۔

گزشتہ روز پشاور پولیس نے گرفتار ملزم کو ایسٹ کنٹونمنٹ تھانے منتقل کرکے قتل کا مقدمہ درج کر لیا۔ ملزم نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے خاندانی تنازعے کو قتل کی وجہ بتایا، پولیس ملزم سے مزید تفتیش کرنا چاہتی ہے جس کیلئے عدالت سے ریمانڈ لے لیا گیا۔

بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور ملزم کے کزن آفتاب آفریدی سوات میں انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج تھے۔ گزشتہ برس فائرنگ کرکے انہیں قتل کردیا گیا جبکہ مقدمے میں لطیف آفریدی اور اہلِ خانہ کو نامزد کیا گیا تھا۔ تاہم عدالت نے ملزمان کو بری کردیا۔

لطیف آفریدی کے قتل سے متعلق کیس کی تفتیش کیلئے ایس ایس پی انوسٹی گیشن کی سربراہی میں فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو حملہ آور کے عدالت میں ہتھیار لے کر داخل ہونے کی وجوہات اور دیگر حقائق پر 1 روز کے اندر رپورٹ دے گی۔

 

Related Posts