واشنگٹن: وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستانی سیاسی اور عسکری دونوں قیادتوں نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔
وزیر خارجہ ورلڈ اکنامک فورم میں شریک ہیں، انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ ایک وسیع انٹرویو میں کہا کہ ”مجھے یقین ہے کہ اگر ہم افغان عبوری حکومت کے ساتھ کام کر سکتے ہیں، جس کا ان گروہوں پر اثر ہے، تو ہم اپنی سلامتی کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے،”
وزیر خارجہ نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان پر ٹی ٹی پی کو پناہ دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے نہ صرف پاکستان کی تحویل میں موجود ٹی ٹی پی کے قیدیوں کو رہا کیا بلکہ ان کے ساتھ بات چیت بھی کی۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ”عمران خان ہمیشہ سے ہی نظریاتی طور پرٹی ٹی پی کے نقطہ نظر سے ہمدرد رہے ہیں۔”
اس سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان کو امید تھی کہ نئی افغان حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرے گی، بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کو امید تھی اور ہمارا ان سے معاہدہ یہی تھی کہ ان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔
مزید پڑھیں:ذاتی مفادات کی خاطر پاکستان کے ساتھ مذاق کیا گیا، نواز شریف
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان دونوں دہشت گردی کا شکار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ
دونوں حکومتوں کو دہشت گردی کے انسداد کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








