بھارت میں طالبات کے حجاب پر پابندی برقرار، سپریم کورٹ سماعت کرے گی

تازہ ترین

تازہ ترین

نئی دہلی: بھارت میں طالبات کے حجاب پر تاحال پابندی برقرار ہے، جس پر بھارتی سپریم کورٹ نے سماعت کا فیصلہ کر لیا۔ حجاب کے معاملے میں عبوری حکم پر جلد سماعت کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے پیر کے روز ریمارکس دئیے کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں پری یونیورسٹی کالجز کے کلاس رومز میں حجاب پر پابندی کے خلاف دائر درخواست پر عبوری حکم کا مطالبہ کیا گیا، جس کی سماعت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:

 غیر قانونی طور پر بھارت جانیوالی 19 سالہ پاکستانی لڑکی گرفتار

چیف جسٹس بھارتی سپریم کورٹ جسٹس چندر چوڑ اور جسٹس جے پی پاردی والا پر مشتمل 2 رکنی ججز بنچ نے 3 رکنی بینچ قائم کرنے کی درخواست پر غور کرنے کیلئے رضامندی ظاہر کردی۔ طالبات کی طرف سے سینئر ایڈووکیٹ میناکشی اروڑا عدالت میں پیش ہوئی تھیں۔

ایڈووکیٹ میناکشی اروڑا نے عدالت سے استدعا کی کہ طالبات کے امتحانات 6 فروری سے شروع ہوں گے، عدالت جلد مقدمے کی سماعت یقینی بنائے جبکہ اکتوبر 2022 کے فیصلے سے بہت سی طالبات نجی کالجز میں منتقل ہونے پر مجبور ہو گئیں تاہم امتحانات تو سرکاری کالجز میں ہونے ہیں۔

میناکشی اروڑا نے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ عدالت 6فروری سے طالبات کو حجاب پہن کر امتحانات میں شرکت کی اجازت دے۔ عبوری احکامات کیلئے جلد سماعت بھی ممکن ہے۔سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ معاملہ 3 ججز کا ہے۔سماعت کی جائے گی۔ معاملہ رجسٹرار کے سامنے رکھیں۔

واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کرناٹک میں طالبات کے حجاب پر پابندی کے حوالے سے 2 الگ الگ فیصلے جاری کرچکی ہے، جس کے بعد بڑے بینچ کے ذریعے معاملے پر غور کا فیصلہ کر لیا گیا۔ تاحال کرناٹک میں طالبات کی کلاس روم میں حجاب کے ساتھ آمد پر پابندی نافذ العمل ہے۔

 

Related Posts