سویڈن اور نیدرلینڈز میں قرآن پاک کی بے حرمتی کیخلاف جمعہ کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے، سینیٹ نے مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔
ایوان بالا میں قرارداد جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ سویڈن اور نیدرلینڈ میں پیش آنے والے قرآن پاک کی بیحرمتی کے واقعات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے قرارداد کی کاپی تمام سفارت خانوں اور پارلیمنٹ کو بھیجنے کی ہدایت کردی۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھااپنی بین الاقوامی اور سفارتی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آگاہ ہیں معاملے پر کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر احتجاج ریکارڈ کرانے کا اعلان کردیا، وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا مغرب میں اسلامک فوبیا پروان چڑھ رہا ہے۔
قرآن پاک کی بیحرمتی کے واقعات پر جمعہ کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے جس میں شرکا نے سویڈن سمیت دیگر مغربی ممالک میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
جماعت اسلامی، تحریک لبیک پاکستان، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے سویڈن کے صدر کا پتلا نذر آتش کیا اور شدید نعرے بازی کی۔
مظاہرین نے احتجاجی بینرز اور کتابچے اٹھا رکھے تھے جن پر سویڈن کے سفیر کی فوری ملک بدری اور توہین قرآن میں ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
تحریک لبیک پاکستان نے لاہور میں تحفظ قرآن مارچ کیا جس کی قیادت سعد رضوی نے کی۔ مارچ میں تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان اور شہریوں کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔
مارچ ناصر باغ ،استنبول چوک، جی پی او چوک اور ریگل چوک سے ہوتا ہوا پنجاب اسمبلی ہال چوک پہنچ کر اختتام پذیر ہوا جہاں مرکزی قائدین نے مارچ کے شرکاء سے خطاب کیا۔
کراچی میں جماعت اسلامی کی جانب سے طارق روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے خطاب کیا۔
اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے مظاہرے کی قیادت نائب امیر میاں محمد اسلم نے کی، مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان توہین کے واقعات کوعالمی فورمز پر اٹھائے اور سویڈن کے سفیرکو ملک بدرکرکے سفارتی و تجارتی تعلقات ختم کیے جائیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








