وزیر اعظم نے انتظامیہ کو ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی کیلئے فری ہینڈ دیدیا

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیر اعظم نے انتظامیہ کو ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی کیلئیفری ہینڈ دیدیا
وزیر اعظم نے انتظامیہ کو ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی کیلئیفری ہینڈ دیدیا

اسلام آباد: ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی کیلئے وزیر اعظم شہباز شریف نے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فری ہینڈ دے دیا۔

رمضان المبارک کے دوران بنیادی اشیائے خور و نوش کی دستیابی اور ان کی قیمتوں میں استحکام یقینی بنانے کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کے زیر صدارت اجلاس منعقد کیا گیا، وزیر اعظم نے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کر دی۔

وزیر اعظم نے وفاق اور صوبوں میں ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فری ہینڈ دیتے ہوئے کہا کہ منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور زائد نرخ لینے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔

وزیر اعظم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خوراک کی کمی نہیں تو پھر مرغی کی قیمت میں اضافہ کیوں، جو عوام کو تنگ کرے، قانون اسے گرفت میں لے، کوئی نرمی نہ برتی جائے، عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھانے والے منافع خوروں کو پکڑیں اور قانون کا سبق پڑھائیں۔

اجلاس میں وزیر اعظم کو بریفنگ دی گئی کہ ملک میں گندم سمیت اشیائے خور و نوش کی کہیں بھی کوئی قلت نہیں، ملک بھر میں یوٹیلیٹی سٹورز پر معیاری اشیا کی فراہمی یقینی ہونی چاہیے، ماہ مقدس میں موبائل یوٹیلیٹی سٹورز قائم کریں، سحر اور افطار میں روزہ داروں کی دعائیں لیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے وفاق اور صوبوں میں سستے رمضان باز ار لگانے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ رمضان بازار میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ رمضان المبارک سے قبل گوداموں، دکانوں اور منڈیوں میں آپریشن کلین اپ کریں، سیلاب، معاشی مشکلات میں پھنسے عوام سے رمضان میں جوزائد قیمت لے اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں، وزیراعظم نے وفاقی حکومت کو وزراء اعلیٰ کے ساتھ مل کر رمضان میں اشیاء کی فراوانی اور قیمتوں پر کنٹرول کا ٹاسک دے دیا۔

مزید پڑھیں:پاناما کیس میں 5 ججوں نے نواز شریف کو نااہل کیا، مریم نواز

شہباز شریف نے کہا کہ عبادتوں کے مہینے میں جو روزے داروں کو تنگ کرے، اسے قانون کی طاقت سے سبق سکھائیں، اشیا کی طلب، رسد اور قیمتوں میں گڑ بڑ ہوئی تو متعلقہ علاقوں کے افسروں کے خلاف کارروائی ہو گی۔

Related Posts