’’لڑکیاں ماہواری کےدوران ٹوائلٹ کیلئے سرخ پاس بنوائیں‘‘ متنازع شرط پر برطانوی اسکول میں ہنگامہ

تازہ ترین

تازہ ترین

انگلینڈ کی جنوب مشرقی کاؤنٹی ایسیکس کے  کینوے جزیرہ کے کیسل ویو اسکول میں اس وقت طلبہ نے ہنگامہ برپا کر دیا جب انتظامیہ کی جانب سے طالبات کو ہدایت کی گئی کہ ماہواری والی لڑکیاں ٹوائلٹ استعمال کرنے کے لیے ریڈ پاس بنوایا کریں۔

اسکول میں پڑھنے والی ایک لڑکی کے والدین نے بتایا کہ ہماری بیٹی کو کلاس کے دوران ماہواری پر ہونے کی وجہ سے ٹوائلٹ استعمال کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ والدین نے مزید کہا کہ ان کی دوسری بیٹی جو اسی اسکول میں پڑھتی ہے کو بھی بیت الخلا میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ حالانکہ وہ خود سے قوت مدافعت کی کمزوری کا شکار ہے جو اس کی آنتوں کو متاثر کرتی ہے۔

والدہ نے بتایا کہ طلبہ چھٹی کے دوران ٹوائلٹ استعمال کرنے کے لیے لمبی لائنوں میں کھڑے ہوتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ بچے چھٹی کے لیے مختص وقت پر کھانا کھا سکتے ہیں نہ ہی ٹوائلٹ جا سکتے۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں اسکول میں افراتفری کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ دوران احتجاج طلبہ کھیل کے میدان میں جمع ہو کر نعرے لگا رہے تھے، “ہمارے مثانے کو آزاد کرو کیونکہ ہم اہمیت رکھتے ہیں۔” مزید ویڈیوز میں طلبہ کو ہالوں میں ہجوم کرنے سے پہلے اپنے کلاس رومز سے باہر ہالوں میں جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اسکول کے پرنسپل اسٹیو ڈورکن نے بتایا کہ طلبہ سبق شروع ہونے سے پہلے وقفوں کے دوران اور اسکول ختم ہونے کے بعد بیت الخلا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنے استاد سے پاس حاصل کریں اور اس طرح اسے اندر جانے دیا جائے گا۔

اسباق کے دوران طلبہ کو بیت الخلا کے استعمال سے روکنے والے سخت نئے قوانین کے خلاف جمعہ کو برطانیہ بھر کے اسکولوں میں مظاہرے شروع ہونے کے بعد واقعہ پیش آیا ۔

کارن وال، ایسیکس، لنکن شائر اور یارکشائر کے سیکنڈری اسکولوں میں طلبہ کو اسکول کی باڑ کو ہلا دینے، میزوں کو نقصان پہنچانے ، دروازوں کو لات مارنے یا کھیل کے میدانوں پر کھڑے ہو کر ہنگامہ آرائی کرتے دیکھا گیا۔  شمالی یارکشائر کے رچمنڈ میں ایک اسکول میں احتجاج کے دوران پولیس نے بھی مداخلت کی۔

یہ ردعمل کچھ اسکولوں کی جانب سے بیت الخلا کے سامنے گیٹ نصب کرنے اور اسباق کے دوران انہیں بند کردینے پر سامنے آیا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ متعدد غیر متعلقہ سکولوں میں بیک وقت یہ اقدامات کیوں کیے گئے۔

ایک عینی شاہد نے کارن وال لائیو کو بتایا کہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میری بیٹی نے مجھے یہ کہنے کے لیے فون کیا کہ احتجاج قابو سے باہر ہو گیا ہے اور طلباء میزیں توڑ رہے ہیں۔

دریں اثنا بینبری آکسفورڈ شائر میں لڑکیوں کے سکرٹس پر پابندی اور ’’سیکس نیوٹرل‘‘ ٹریک سوٹ کے نفاذ پر والدین اور شاگردوں نے ناراض ہوکر مظاہرے کیے ۔ ان مظاہروں کے بعد وارنر اسکول کو بند کرنے پر مجبور کردیا گیا۔

Related Posts