کیا نئے قانون کے بعد نواز شریف کی نااہلی ختم ہوسکتی ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے عدالتی اصلاحات کے بل کے قانون بننے کے بعد کئی اہم شخصیات کو اپیل کا حق مل جائے گا۔

عدالتی اصلاحات کے بل میں ترمیم محسن داوڑنے قائمہ کمیٹی میں پیش کی تھیں جہاں بلاول بھٹو زرداری نے اس کی مخالفت کی تھی۔ تاہم بدھ کے اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے بلاول بھٹو زرداری کو راضی کرلیا اور اس ترمیم کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران منظور ہونے والے بل کا حصہ بنا دیا گیا۔

ایوان بالا اور صدر مملکت سے منظوری کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔داوڑ کی طرف سے پیش کی گئی ترمیم میں تجویز کیا گیا کہ بل کی شق 5 میں ترمیم کی جائے تاکہ درج ذیل کہا جاسکے۔

ذیلی دفعہ (1) کے تحت اپیل کا حق کسی ایسے متاثرہ شخص کو بھی دستیاب ہوگا جس کے خلاف اس ایکٹ کے آغاز سے قبل آئین کے آرٹیکل 184 کی شق (3) کے تحت حکم دیا گیا ہو: بشرطیکہ اپیل یہ ذیلی دفعہ اس ایکٹ کے شروع ہونے کے 30 دنوں کے اندر دائر کی جائے گی۔

فطری طور پر اس قانون کے بعد ازخود نوٹس کے ہر فیصلے کو چیلنج کیا جاسکے گا اور چونکہ یہ بل 30 دن کی مدت کا تعین کرتا ہے اور سینیٹ کے راستے اسمبلی سے گزر چکا ہے اس لئے آنے والے کچھ دنوں میں کچھ کارراوئی نظر آنی چاہئیے۔

یہ دراصل پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کی سوچ ہے۔اسمبلی سے بل کے منطؤر ہونے کے بعد فواد چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ یہ ترمیم خفیہ طور پر منظور کی گئی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بل کا مقصد نواز شریف کی نااہلی کو ختم کرنا تھا۔

کیا نواز شریف کو اس بل سے فائدہ ہوگا؟

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کے قانون بننے کے بعد نوازشریف کو نااہلی کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حق مل جائےگا ۔

اس بل کے بعد نواز شریف اپنی نااہلی کیخلاف اپیل دائر کرسکیں گے، انھیں پارٹی صدارت کیس میں بھی اپیل کا حق مل جائے گااورتاحیات نااہلی کے فیصلے کیخلاف بھی اپیل دائرہوسکے گی۔

Related Posts