قطری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی ایک عشرے سے سرد مہری کے بعد حماس کے پولیٹیکل بیورو چیف اس تحریک کے کچھ سینئر رہنماوں کے ساتھ سعودی عرب جائیں گے۔
اس حوالے سے جریدہ العربی الجدید نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ حماس کا یہ وفد عمرے کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب پہنچے گا۔ قطری جریدے نے دعویٰ کیا کہ حماس کے پولیٹیکل بیورو چیف اسماعیل ھانیہ ایک وفد کی سربراہی کرتے ہوئے ریاض جائیں گے۔ اس دوران ان کے ساتھ عالمی تعلقات عامہ کے سربراہ موسیٰ ابو مرزوق، زخمیوں و اسیروں کی کمیٹی کے سربراہ زاھر جبارین اور فلسطین سے باہر حماس کے سربراہ خالد مشعل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:
پچیسویں رمضان کی شب حرم شریف میں 15 لاکھ زائرین کی آمد
العربی الجدید نے حماس کے خارجہ تعلقات کے سربراہ موسیٰ ابو مرزوق کے سابقہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ تحریک سعودی عرب کے ساتھ سابقہ تنازعات کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور حل طلب مسائل کو حل کیا جا رہا ہے۔
موسیٰ ابو مرزوق نے کہا تھا کہ حماس بات چیت کے ذریعے سعودی عرب سے تعلقات کی بحالی کا خیر مقدم کرتی ہے۔ قطری جریدے کا یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب زمان حال میں ابھی تک اس تحریک نے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
یاد رہے کہ 2015 میں بھی حماس وفد نے اسی طرح سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ لیکن بد قسمتی سے اس دورے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








