انتخابات کیلئے فنڈز نہ دینے کے نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان

تازہ ترین

تازہ ترین

چیف جسٹس کا بھارت میں ایس سی او اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان نے سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ انتخابات کیلئے فنڈز نہ دینے کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ملک بھر میں انتخابات ایک ساتھ کرانے کی درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالتِ عظمیٰ نے فنڈز فراہمی کے متعلق دوبارہ جواب طلب کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر فنڈز نہ دئیے تو نتائج سنگین ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:

دسمبر1971ء میں پاکستان اچانک نہیں ٹوٹا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

درخواستوں کی سماعت کیلئے قائم 3 رکنی بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں۔ وزارتِ دفاع اور 2 شہریوں نے انتخابات ایک ساتھ کرانے کیلئے عدالتِ عظمیٰ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

سماعت کے دوران  جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارلیمنٹ کے وزیراعظم پرعدم اعتماد کے بھی نتائج ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ مولا ہمیں ہمت دے کے صیح فیصلے کریں اور ہمیں نیک لوگوں میں شامل کرے اور جب ہم چلے جائیں تو  ہمیں اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے۔

ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ معاملہ بہت لمبا ہوتا جارہا ہے، حکومت نے اپنا ایگزیکٹو کام پارلیمان کو دیا ہے یا نہیں؟ جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کیا کبھی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری لینے میں حکومت کوشکست ہوئی؟

اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سال 2013 میں کٹوتی کی تحریکیں منظور ہوچکی ہیں، موجودہ کیس میں گرانٹ جاری کرنے سے پہلے منظوری لینے کے لیے وقت تھا۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ وزارت خزانہ کی ٹیم نے بار بار بتایا کہ سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری بعد میں لی جاتی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دئیے کہ  وزارت خزانہ نے آئین کے آرٹیکل 84 کا حوالہ دیا تھا،کیا آپ کا کیس یہ ہےکہ حکومت ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سنجیدہ ہے لیکن پارلیمنٹ نے منع کر دیا؟ وزیراعظم کو پارلیمنٹ کی اکثریت کو اعتماد میں لینا تھا۔

عدالتِ عظمیٰ کے سینئر جج جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دئیے کہ وزیراعظم ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ امید کرتے ہیں کہ حکومت آئینی عمل کے لیے فنڈز کی فراہمی پر مثبت جواب دے گی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سکیورٹی صورتحال سے متعلق ہمیں بتایا گیاہے،الیکشن کمیشن کو کیوں لگتا ہے کہ ماضی سے اب صورتحال بہت خراب ہے؟ ماضی میں دہشت گردی کے دوران بھی الیکشن ہوا، محترمہ بینظیربھٹو کی شہادت کے سال بھی انتخابات ہوئے تھے۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ وزیراعظم کے پاس اسمبلی میں اکثریت ہونا لازمی ہے، اٹارنی جنرل صاحب سمجھنے کی کوشش کریں، معاملہ بہت سنجیدہ ہے۔ اس سے پہلے انتظامی امور قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی کو بھجوانےکی کوئی مثال نہیں ملتی۔

انتخابی اخراجات ضروری نوعیت کے ہیں، غیر اہم نہیں، حکومت کا گرانٹ مسترد ہونےکاخدشہ اسمبلی کے وجودکے خلاف ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ کون گارنٹی دے گا کہ 8 اکتوبر کو حالات پر امن ہوں گے؟ وزارت دفاع کا جواب تسلی بخش نہیں۔

الیکشن کمیشن کہتا ہے اکتوبر تک الیکشن نہیں ہوسکتے، الیکشن کمیشن نے ایک ساتھ الیکشن کرانے کا بھی کہا ہے، الیکشن کمیشن کی اس بات پرکئی سوالات جنم لیتے ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ الیکشن کمیشن کی آبزرویشن کی بنیاد سکیورٹی کی عدم فراہمی ہے۔

 دہشت گردی ملک میں 1992 سے جاری ہے،1987، 1991، 2002، 2008، 2013 اور 2018 میں الیکشن ہوئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اب ایسا کیا منفرد خطرہ ہے جس کے باعث الیکشن نہیں ہوسکتے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ پہلے ایک ساتھ تمام سکیورٹی فورسز نے فرائض سرانجام دیے تھے، اب دو صوبوں میں الیکشن الگ ہوں گے۔چیف جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع نے بھی اندازہ ہی لگایا ہے، حکومت محض اندازوں پر نہیں چل سکتی۔

اس موقعے پر جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں  جنگ کی صورتحال میں بھی ایک دن انتخابات میں تاخیر نہیں ہوئی تھی، کیا  آئین کہیں پر یہ مینڈیٹ دیتا ہےکہ اسمبلی تحلیل ہونےکے بعد اگلے سال انتخابات کرائے جائیں؟

جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ 2022 میں ایک حکومت ختم ہوگئی،  سپریم کورٹ نوٹس نہ لیتی تو قومی اسمبلی تحلیل کردی گئی تھی، صوبائی اسمبلیوں کے ہوتے قومی اسمبلیوں کے انتخابات بھی تو ہونے ہی تھے، آئین میں اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔بعد ازاں مقدمے کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

Related Posts