انتخاب میں تیسرے نمبر پر آنے والے ترک صدارتی امیدوار اہمیت اختیار کرگئے

تازہ ترین

تازہ ترین

ترکیہ میں اتوار کو منعقدہ انتخابات میں تیسرے نمبر پر رہنے والے قوم پرست صدارتی امیدوارسِنان اوعان ’کنگ میکر‘ بن گئے۔

انتخابی نتائج سامنے آنے کے ساتھ منظر نامہ واضح ہونے کے بعد سنان اوعان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں حزب اختلاف کے امیدوار کمال کلیچ داراولو کی صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں حمایت کر سکتے ہیں اگر وہ کرد نواز جماعت کوکوئی رعایت نہ دینے پر رضامند ہوں۔

سنان اوعان نے ابتدائی انتخابی نتائج کے بعد کہا کہ ’’ہم انتخابات میں اپنے فیصلے کے لیے اپنے ووٹروں سے مشاورت کریں گے لیکن ہم پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اورپناہ گزینوں کو واپس بھیجنا ہماری سرخ لکیریں ہیں۔‘‘

صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ میں سنان اوعان نے 5.17 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ صدررجب طیب ایردوآن کو جیتنے کے لیے صرف اعشاریہ 50 ووٹ درکار ہیں جبکہ کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے 99 فی صد کی گنتی مکمل ہوچکی ہے۔ انھوں نے 49۰51 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل کلیچ داراوعلو 44۰88 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبرپررہے ہیں۔

اب ان دونوں کے درمیان 28 مئی کو صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مقابلے کا امکان ہے۔ دونوں صدارتی امیدواروں نے کہا ہے کہ وہ دوسرے مرحلے کی پولنگ کے لیے تیارہیں۔

ترکیہ کے سپریم الیکٹورل بورڈ کے مطابق سمندرپار رہنے والے ترک شہریوں کے ووٹوں گنتی ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے اورزیادہ تربیلٹ پیپرزکی گنتی ہونے والی ہے۔ واضح رہےکہ دوسرے ممالک میں مقیم 34 لاکھ ترکِ تارکینِ وطن ووٹ دینے کے اہل ہیں۔صدرایردوآن نے 2018 کے انتخابات میں بیرون ملک مقیم ترکوں کے قریباً 60 فی صدووٹ حاصل کیے تھے۔

Related Posts