بھارت کی مودی حکومت نے ایک اور حیران کن اقلیتی مخالف فیصلہ کیا ہے۔
اطلاع کے مطابق مودی حکومت جلد ہی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے اقلیتی ادارے کا درجہ واپس لے گی۔ اس کے لئے تقریباً تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، صرف اعلان ہونا باقی ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایسے الزامات ہیں کہ 1981ء کے ایکٹ میں تبدیلی کر کے مودی حکومت نے خاموشی سے اسے منسوخ کر دیا ہے۔ بتا دیں کہ 1981ء میں اندرا گاندھی کی حکومت نے پارلیمنٹ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایکٹ میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے اقلیتی ادارے کا درجہ دے دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:
پشاور شہد کے بزنس میں ایشیا کی سب سے بڑی منڈی بن گیا
میڈیا رپورٹوں کے مطابق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک بل پاس کر کے خفیہ طور پر اے ایم یو کی اقلیتی حیثیت کو ختم کر دیا ہے۔ حالانکہ ابھی تک کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے لیکن اے ایم یو میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ مودی حکومت نے اقلیتی ادارے کا درجہ چھین لیا ہے۔
سابق رکن اسمبلی محمد ادیب کا کہنا ہے کہ 1981ء کی تبدیلیوں کو منسوخ کر کے حکومت نے ایک بار پھر ماحول کو 1965ء کی طرف موڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے کو لے کر 28 مئی کو اے ایم یو سے وابستہ لوگوں کے ساتھ میٹنگ بھی کریں گے۔ محمد ادیب نے اس معاملے پر اے ایم یو انتظامیہ کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ انتظامیہ نے اس معاملے کو خفیہ رکھ کر مسلمانوں کو دھوکہ دیا ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے لئے جد و جہد کرنے والے علیگ برادری کو مودی حکومت کے اس خفیہ فیصلے سے سخت صدمہ پہنچا ہے۔ 1965ء میں سخت جد و جہد کے بعد اندرا گاندھی حکومت نے یونیورسٹی کو اقلیتی درجہ دیا تھا۔ مگر الہ آباد ہائی کورٹ نے 2005ء میں اسے کالعدم قرار دیا تھا۔ جس کے خلاف مودی حکومت نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔
تاہم مودی کی حکومت کی آمد بعد مودی حکومت نے اس عرضی کو سپریم کورٹ سے واپس لے لیا تھا۔ لیکن اب یہ خبر آ رہی ہے کہ مودی حکومت نے نہایت ہی رازداری کے ساتھ یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو ختم کر دیا ہے۔ جس سے علیگ برادری میں شدید ناراضگی اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








