کیا پاکستان تحریک انصاف پر پابندی لگ جائے گی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے درمیان، وزیر دفاع خواجہ آصف نے 9 مئی کے حملوں کے بعد سابق حکمران جماعت پر پابندی لگانے کے لیے تمام آپشنز پر غور کرنے کا دعویٰ کیا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ مخلوط حکومت عمران خان کی قیادت والی پارٹی کو کالعدم قرار دینے کے لیے تمام آپشنز تلاش کر رہی ہے، اُن کا کہنا تھا کہ فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کی اس قسم کی مذموم حرکت دوبارہ نہیں کی جائے گی۔

خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے احتجاج کو نئی دہلی کے منصوبے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان کا حریف بھارت بہت زیادہ خوش ہوگا کیونکہ پی ٹی آئی کے کارکنان نے قوم کے ہیروز کی یادگار کو نقصان پہنچا کر بھارت کی دیرینہ خواہش پوری کی ہے۔

سینیئر وزیر نے مزید کہا کہ حساس تنصیبات پر حملے اچانک نہیں کیے گئے تھے بلکہ ایک پوری سمجھی سازش کے تحت کیے گئے تھے جن کی پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

قبل ازیں وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے بھی کہا تھا کہ حکومت کی قانونی ٹیم ایسے کئی امکانات کا جائزہ لے رہی ہے جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاسکتا ہے، لیکن پاکستان پیپلز پارٹی اورایم کیو ایم کی جانب سے اس تجویز کی مخالفت کی گئی تھی۔

اسی طرح انسانی حقوق کے کارکنان نے بھی حکومت کے اس اقدام کی سخت مخالفت کی ہے ، اُن کی جانب سے کہا گیا کہ ملک کی سرکردہ جماعت کو تحلیل کرنے کی کوئی بھی کوشش ممکنہ طور پر جنوبی ایشیائی ملک کو مزید گہرے سیاسی بحران میں ڈال دے گی۔

دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات پر پی ٹی آئی پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی کیونکہ اِن واقعات میں عوام میں ملوث تھی اور اگر حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی پر پابندی عائد کی جاتی ہے تو عدالت اس حکم نامے کو کالعدم قرار دینے میں صرف چند منٹ لے گی۔

Related Posts