حافظ نعیم یا مرتضی وہاب، کراچی کے میئر کا فیصلہ کل

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی کے مئیر اور ڈپٹی مئیر کے لئے انتخابات جمعرات پندرہ جون کو آرٹس کونسل کراچی میں ہوں گے۔

میئر و ڈپٹی میئر کراچی کے لئے انتخابات کا میدان کل سجنے کو تیار ہے، پیپلز پارٹی کے بیرسٹر مرتضی وہاب اور امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کے درمیان کڑے مقابلہ کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

اسلامی نظریاتی کونسل نے خواتین کو بغیر محرم حج کی اجازت دیدی

کراچی کی 246 یونین کمیٹیوں میں سے 155 یوسیز کے ساتھ پیپلز پارٹی مئیر کراچی کے انتخابات میں سب سے آگے ہے، جماعت اسلامی 130یوسیز کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تحریک انصاف 62 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، جب کہ ن لیگ 14، جمعیت علمائے اسلام 4 اور تحریک لبیک ایک سیٹ کے ساتھ کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی سٹی کونسل میں موجود ہے۔

جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کا اعلانیہ اتحاد 193اراکین پر مشتمل ہے جو جیت کے لئے فیصلہ کن ہوسکتا ہے، تاہم چند روز قبل تحریک انصاف کے 30 چیئرمین کا جماعت اسلامی کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ مشکل پیدا کرسکتا ہے۔

دوسری طرف تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے صوبائی الیکشن کمشنر کو خط لکھا ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ پی ٹی آئی کا کوئی بھی ووٹ اگر پارٹی ٹکٹ ہولڈر کیخلاف ہو تو اسے نہ گنا جائے۔

کراچی کے 19 ٹاؤنز کا فیصلہ ہوگیا

کراچی کے 25 ٹاؤنز میں سے 19 ٹاؤنز کا فیصلہ ہو گیا ہے، جس کے تحت جماعت اسلامی 9، پیپلز پارٹی 8 اور تحریک انصاف دو اضلاع سے بلا مقابلہ منتخب ہو چکی ہے۔ کل ڈسٹرکٹ شرقی کے 3، غربی کے دو اور کورنگی کے ایک ٹاون میں چئیرمین اور وائس چیئرمین کا الیکشن ہوگا۔

میئر و ڈپٹی میئر کراچی کے انتخابات کب، کہاں اور کیسے ہوں گے؟

کراچی میں میئر و ڈپٹی میئر اور ٹاؤن کے چیئرمین، وائس چیئرمین کا الیکشن 15 جون جمعرات کو ہوگا، اور شو آف ہینڈ کے ذریعے ووٹ شمار کیے جائیں گے۔

15 جون صبح 9 بجے سے ساڑھے 10 بجے تک سٹی کونسل کے 366 ارکان کو پولنگ اسٹیشن آرٹس کونسل آڈیٹوریم میں داخلے کی اجازت ہوگی، صبح ساڑھے 10 بجے آواز لگانے کے بعد پولنگ اسٹیشن کے دروازے بند کردیےجائیں گے۔

ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر اور ریٹرنگ آفیسر اراکین کو پولنگ کا عمل سمجھائیں گے، اور 11 بجے کے بعد شو آف ہینڈ کے ذریعے ووٹ شمار کیے جائیں گے، ووٹ دینے کے لیے نہ آنے والوں سے نتائج یا انتخابی عمل پر فرق نہیں پڑے گا، اگر کورم پورا نہ ہوا تو میئر و ڈپٹی میئر کے لیے سب سے زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار کامیاب قرار پائے گا۔

پولنگ اسٹیشن میں موجود اہل ووٹرز کی اکثریت کی بنیاد پر کامیابی کا فیصلہ ہوگا، بالکل ایسے ہی شو آف ہینڈ کے ذریعے ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا الیکشن ہوگا۔

Related Posts