خیبر پختونخوا کے علاقے گڑھی دوپٹہ میں امتحان دینے کے لیے آیا فرسٹ ائیر کا ہونہار طالب علم امتحانی سنٹر کی حدود میں قتل کر دیا گیا، 18 سالہ علی رشید مغل نقل میں مدد نہ کرنے کی پاداش میں مبینہ طور پر تین طلبا کے ہاتھوں قتل ہوا۔
مانسہرہ کے لوئر چھتر سٹی کے رہائشی مقتول طالب علم کا تعلق گڑھی دوپٹہ سے بتایا جاتا ہے۔ سٹی پولیس نے سی سی کیمروں کی فوٹیج، جیو فینسنگ اور دیگر جدید تکنیکی مہارت سے مقتول کی والدہ کی معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے رات گئے مرکزی ملزم مہران ریاض اور دیگر شریک ملزموں کو گرفتار کر لیا۔
جہاز پر پرندے کا خطرناک حملہ، پائلٹ خون میں لت پت
جمعہ کی شام قتل ہونے والے نوجوان کے قتل کی اطلاع پولیس کو دیر سے ملی، تاہم پولیس نے گورنمنٹ پائلٹ ہائی اسکول جس کا امتحانی ھال بطور سنٹر تھا پہنچ کر لاش تحویل میں لی اور ورثا کی اجازت کے بعد اسے شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان اسپتال سی ایم ایچ منتقل کیا جہاں مقتول کا پوسٹ مارٹم کیا گیا جسے قاتلوں نے بے دردی کے ساتھ خنجروں کے وار کرکے قتل کردیا تھا۔
مقتول علی رشید مغل کا والد محکمہ برقیات کا لائن مین ہے جبکہ مقتول بچہ دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا جو اچھے اخلاق، کردار اور قابلیت کی وجہ سے مشہور تھا۔ مقتول کی والدہ نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ اس کے بیٹے نے انہیں بتایا تھا کہ امتحانی سنٹر میں چند اوباش لڑکے نقل کروانے پر بضد ہیں، انکار پر مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
جمعہ کے روز نوجوان سیکنڈ شفٹ کا پرچہ دینے کے بعد امتحانی مرکز سے نکلا ہی تھا کہ باہر گھات لگائے لڑکوں نے اس پر حملہ کر دیا جس کی سی سی فوٹیج بھی منظر عام پر آ چکی ہے پولیس نے ایف آئی آر کاٹ کر ملزمان سے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
دوسری جانب مقتول کے ورثا اور سول سوسائٹی نے واقعہ کے خلاف سی ایم ایچ روڈ پر سڑک بلاک کر کے کئی گھنٹے طویل احتجاج کیا تاہم پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے قاتلوں کی بر وقت گرفتاری اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے وعدے پر احتجاج مؤخر کر دیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








