ریاض: سعودی عرب میں دنیا کے جدید ترین شہری منصوبے نیوم کے ذیلی شہر دالائن کی تفصیلات سامنے آگئیں جو تکمیل کے قریب ہے۔ 170 کلومیٹر پر پھیلے شہر میں 9 لاکھ افراد رہائش اختیار کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق دالائن شہر 5 ارب ڈالر کے منصوبے نیوم کا مرکز اور دھڑکتا ہوا دل ہوگا۔ دالائن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جائلز پینڈلٹن کا کہنا ہے کہ شہر میں کاریں نہیں ہوں گی اور جدید ٹیکنالوجی سے کام لیا جائے گا۔
مودی اپنی پارٹی نہ بچا سکے، امریکی مفادات کا دفاع کیا کرینگے؟
جائلز پینڈلٹن کا کہنا ہے کہ یہ شہر کلین انرجی اور مصنوعی ذہانت پر چلایا جائے گا جس کی تعمیر گزشتہ برس اپریل کے دوران شروع ہوئی جبکہ شہر کا پہلا علاقہ مرینا 2030 تک نمائش کیلئے تیار ہوجائے گا۔
پینڈلٹن نے اس جدید شہر کی تعمیر کے لیے پروجیکٹ ٹیم کی لگن پر کی تعریف کرتے ہوئے موجودہ بنیادی ڈھانچے، ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس اور یوٹیلیٹی سسٹمز کو کامیابی کے لیے اہم عناصر کے طور پر اجاگر کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ جدید تعمیراتی طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے روایتی طریقوں کے مقابلے میں تیز، محفوظ، اور اعلیٰ معیار کے نتائج حاصل کرنا ہے۔ مرینا کی کھدائی اس وقت اپنے عروج پر ہے۔
ایک مربوط کنٹرول سینٹر کارکردگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے سرگرمیوں کی 24 گھنٹے نگرانی کے قابل بناتا ہے جبکہ اربوں ڈالرز کے مرکزی منصوبے نیوم کا تصور سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا۔
دنیا کے جدید ترین شہر نیوم میں سمارٹ ٹاؤن، بندرگاہیں، تحقیقی مراکز، کھیلوں اور تفریحی مقامات اور سیاحتی مرکز شامل ہیں۔ لگژری جزیرہ سندالا بھی نیوم کا حصہ ہے جو 2024 میں کھلنے والا ہے۔
نیوم کے تحت مکمل ہونے والا پہلا یہ پہلا منصوبہ ہوگا۔ یہاں آکساگون دنیا کا سب سے بڑا تیرتا ہوا انفراسٹرکچر ہوگا اور اس کا تجارتی اور صنعتی بازو ٹرجینا بھی منصوبے کا اہم حصہ ہے۔
اہم ترین مرکز اور نیوم کے دھڑکتے ہوئے دل کے طور پر دالائن شہری ترقی کی نئی تعریف پیش کرے گا جس میں عدم مساوات اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تین جہتی ڈیزائن کو ترجیح دی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








