ایف بی آر سے متعلق زیر التواء کیسز جلد از جلد حل کئے جائیں، وزیراعظم کی اٹارنی جنرل کو ہدایت

تازہ ترین

تازہ ترین

Pm imran khan meeting

اسلام آباد: وزیرِ اعظم عمران خان نے اٹارنی جنرل کو ایف بی آر سے متعلق زیر التواء کیسز جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ مقدمات کے جلد حل سے کاروباری برادری کے مسائل حل ہونگے ،کاروباری معاملات میں آسانی پیدا ہوگی، ریفنڈز کی ادائیگیوں کے سلسلے میں متعارف کرائے جانیوالے نظام کو مزید آسان بنایا جائے ۔

وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت معاشی ٹیم کا اہم اجلاس ہوا جس میں حماد اظہر، خسرو بختیار، اسد عمر، عمر ایوب، حفیظ شیخ، ڈاکٹر عشرت حسین، اٹارنی جنرل اور فردوس عاشق اعوان نے بھی شرکت کی۔

 اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال، اعلیٰ عدالتوں میں ایف بی آر سے متعلقہ زیر التوا کیسز کے حوالے سے پیش رفت، ایکسپورٹرز کے ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگیوں، ترکمانستان افغانستان پاکستان انڈیا (ٹاپی) گیس پائپ لائن منصوبے میں پیشرفت، نان ٹیکس ریونیو بڑھانے کے سلسلے میں اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں میں پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کے لئے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی سے نومبر کے مہینوں کے لئے سامنے آنے والے اعدادوشمارکے مطابق برآمدات کے حجم اور ڈالر کے اعتبار سے آمدن میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ برآمدات میں پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال اکتوبر کے ماہ میں چھ فیصد اضافہ جبکہ نومبر کے مہینے میں 9.6فیصد اضافہ سامنے آیا ہے، وزیرِ اعظم نے اس مثبت رجحان پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اٹارنی جنرل نے اجلاس کو سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ، لاہور لائی کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ میں ایف بی آر سے متعلقہ زیر التوا کیسز پر تفصیلی طوربریف کیا۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ایف بی آر سے متعلق1089کیسز میں سے 551کا فیصلہ ہو چکاہے جبکہ 285مقدمات زیر التوا ہیں۔ دیگر مقدمات میں یا تو فیصلہ محفوظ ہے یا زیر سماعت ہیں۔

وزیرِ اعظم نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ زیر التوا کیسز کے جلد از جلد حل کے لئے کوششیں تیز کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر سے متعلقہ مقدمات میں حکومت کا نقطہ نظر موثر انداز میں عدالت کے سامنے رکھنے کے لئے اٹارنی جنرل آفس کو درکار تمام وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقدمات کے جلد حل سے کاروباری برادری کے مسائل حل ہوں گے اور کاروباری معاملات میں آسانی پیدا ہوگی۔ چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے ایکسپورٹرز کے ریفنڈز کی ادائیگیوں کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر وزیرِ اعظم کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پاک چین آزاد تجارتی معاہدہ: دوسرے مرحلے کا آغاز اچھی خبر ہے۔فردوس عاشق اعوان

وزیرِ اعظم نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ ریفنڈز کی ادائیگیوں کے سلسلے میں متعارف کرائے جانے والے نظام کو مزید آسان بنایا جائے تاکہ ایکسپورٹرز خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے ایکسپورٹرز کو بقایا جات کی وصولی میں کسی قسم کی دقت پیش نہ آئے۔

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشکل معاشی حالات کے باوجود حکومتی اقدامات کے نتیجے میں معاشی استحکام آیا ہے اور کاروباری طبقے کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے نتیجے میں کارباری برادری کے اعتماد اور مثبت جذبات کو مزید تقویت دینے کے لئے ضروری ہے کہ ایکسپورٹرز اور خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کی جائے اور ان کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور ان کو مالی وسائل کی قلت پیش نہ آئے۔

معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے ٹاپی گیس پائپ لائن کی پیش رفت سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ سیکرٹری خزانہ نے نان ٹیکس ریونیو میں اضافے کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی، وزیرِ اعظم نے نان ٹیکس ریونیو بڑھانے کے سلسلے میں کوششوں کو سراہا۔

ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد اور ان کی پیشرفت پرباقاعدگی سے نظر رکھنے کیلئے سیکرٹری منصوبہ بندی نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں کا پہلا سہ ماہی جائزہ 21اکتوبرسے یکم نومبر کے دوران لیا گیا جس میں تمام اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر بروقت عمل درآمد اور ان کی بلا تعطل روانی کو یقینی بنائیں۔

Related Posts