میرے دیس کے جوانو ہمت نہ ہارنا…….

تازہ ترین

تازہ ترین

بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو اور سی پیک کی وجہ سے پاکستان اور چین دونوں ممالک کے باہمی رشتے اور مفادات مزید مضبوط و مستحکم رشتے میں بندھ چکے ہیں اور اس کے پاکستان اور خطے کے ساتھ ساتھ چین کی اپنی معیشت اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی پر مثبت اثرات بھی رونما ہونا شروع ہورہے ہیں۔

سی پیک کے 10 سال مکمل ہونے کی خوشی میں پاکستان میں تقریبات کا انعقاد خوش آئند اور چین کے نائب وزیراعظم ہی لیفنگ کی پاکستان آمد انتہائی قابل قدر اقدام ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ پاکستان میں چینی نائب وزیراعظم کی آمد کے موقع پر جس انداز میں میڈیا کوریج ملنی چاہیے تھی وہ دیکھنے میں نہیں آئی۔

ہی لیفنگ صرف چین کے نائب وزیراعظم ہی نہیں بلکہ سینٹرل کمیونسٹ کمیٹی کے ڈائریکٹر بھی ہیں جو چین کا ایک بہت ہی کلیدی عہدہ ہے اور تقریباً 60 ٹریلین ڈالر کے مختلف منصوبوں اور معاملات کے سربراہ بھی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہی لیفنگ ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے 4 ٹریلین ڈالر سے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو پر عملدرآمد یقینی بنانا شروع کیا۔

سی پیک بی آر آئی کا مرکزی منصوبہ ہے، ابتدائی فیز میں بجلی اور دیگر منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچے اور اب دوسرے مرحلے میں سب سے اہم منصوبہ اسپیشل اکنامک زون کو بڑھاوا دینا ہے۔ اگر ہم بی آر آئی کی روح کے مطابق اس کی مقصدیت پر نظر ڈالیں تو اس کے دوسرے مرحلے میں ٹیکنالوجی اور انڈسٹری کی منتقلی، ہنرمند افراد کا تبادلہ اور دیگر منصوبے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔

سندھ میں دھابے جی اکنامک زون 30 فیصد کے قریب مکمل ہوچکا ہے، بلوچستان میں بوستان اکنامک زون 20 فیصد مکمل ہوچکا ہے اور اسی طرح دیگر منصوبے بھی بتدریج تکمیل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں چینی نائب وزیراعظم کا دورہ ان تمام تر کاموں میں ایک نئی روح پھونکنے کا سبب بنے گا اور آنے والے دنوں میں تمام کاموں اور اقدامات میں مزید تیزی دیکھنے میں آئیگی۔

بی آر آئی اور سی پیک منصوبہ پاکستان اور چین ہی نہیں بلکہ دنیا کی ترقی کیلئے نئی راہیں کھولنے کا منصوبہ ہے اور چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات صرف دونوں ممالک تک نہیں بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم اور اکنامک کو آپریشن آرگنائزیشن کی ہم آہنگی کا بھی راستہ بنانے کا سبب بنے گا۔

خطے میں بدلتی علاقائی اور جیو پولیٹیکل صورتحال کو مدنظر رکھنا بھی یہاں اس لئے ضروری ہے کیونکہ چین ایک طرف تو ایران میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے تو دوسری طرف سعودیہ ایران سفارتی تعلقات کی بحالی میں معاونت کاری میں بھی کامیاب ہوگیا۔ ابراہم اکارڈ کے تحت خلیجی ممالک جو دائیں بائیں جارہے تھے وہ اب چین کے بلاک کی طرف راغب دکھائی دے رہے ہیں۔ 

پاکستان میں سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے اقدامات میں رخنہ ڈالنے کیلئے بھارت پوری قوت کے ساتھ میدان میں ہے اور را کا بڑا بجٹ پاکستان میں افراتفری کیلئے صرف کیا جارہا ہے۔ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرکے سرمایہ کاری کا سلسلہ روکنے کیلئے بھارت پورا زور لگارہا ہے۔

راقم الحروف سے گزشتہ چند برسوں کے دوران ہونیوالی ملاقاتوں میں چینی سفرا کبھی دبے تو کبھی واشگاف الفاظ میں پاکستان میں سی پیک کی سست روی پر شکوہ کناں دکھائی دیتے رہے کیونکہ پاکستان کی ماضی کی کچھ پالیسیوں کی وجہ سے سی پیک پر کام میں وہ تندہی نظر نہیں آئی جو اس سے پہلے دکھائی دیتی تھی۔

پاکستان میں منرل سمٹ (Mineral Summit)اور سی پیک کے 10 سالوں کو مد نظر رکھ کر اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے قیام کو دیکھا جائے تو پاکستان میں اس کی بہت عرصے سے ضرورت تھی۔

راقم الحروف نے بطور سفیر خود بھی سرمایہ کار دوست اقدامات اٹھائے کیونکہ جب تک ہم سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم نہیں کرینگے تب تک سرمایہ کاری کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔

متحدہ عرب امارات میں بطور سفیر تعیناتی کے دوران اماراتی حکام یہ شکوہ کرتے تھے کہ اگر ہم پاکستان میں سرمایہ کاری کا قصد کرتے ہیں تو پاکستان میں 24 محکموں کے چکر لگانے پڑتے ہیں اور ہر جگہ پیسوں کا بھی تقاضا کیا جاتا ہے۔ یہی وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے دور بھاگتے تھے۔

چینی ہو یا کوئی بھی سرمایہ کار، اس کو ون ونڈو سسٹم درکار ہوتا ہے کیونکہ باہر سے پیسہ لانے والے درجنوں محکموں کے چکر لگانے کے بجائے واپس جانا پسند کرتے ہیں کیونکہ رولز اور ریگولیشنز کے نام پر سرمایہ کاروں کو اتنا زچ کیا جاتا تھا کہ لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری سے اجتناب کرتے تھے۔

اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل کے قیام اور عسکری قیادت کی شمولیت کی وجہ سے یہ امید پیدا ہوچلی ہے کہ شاید اب سرمایہ کاروں کو ایسا ماحول فراہم کیا جائیگا کہ لوگ بخوشی یہاں پیسہ لگانا پسند کرینگے۔

عسکری قیادت کے خطے میں ملٹری ڈپلومیسی کیلئے فعال کردار کی وجہ سے سرمایہ کاری کیلئے اقدامات کو عملی جامہ پہنانے میں بھرپور مدد و معاونت مل سکتی ہے۔

پاکستان کو صرف اندرونی مسائل کا سامنا نہیں بلکہ بیرون محاذوں پر بھی دشمن ہماری صفوں کو کھوکھلا کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہا ہے۔ چین کا اثرو رسوخ اور بڑھتے قدم روکنے کیلئے بھارت کو خطے کا تھانیدار بناکر ظاہراً ہر قسم کی دراندازی کی کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستان میں بیرونی مداخلت اور رخنہ ڈالنے کی تصدیق کی ہے۔

دہشت گردی سے نبرد آزما ہونے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے بھی تندہی سے یکجا ہوکر کام کرنا چاہیے اور امید ہے کہ پاکستان میں معاملات اب آگے کی طرف ہی جائینگے تاہم اس کیلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ مقاصد کے حصول کیلئے بہتر سے بہتر افسران کی خدمات حاصل کی جائیں اور سرمایہ کاری کی شقوں کو آسان بنایا جائے تاکہ پاکستان کی ترقی کے راستے کو مزید ہموار کیا جاسکے۔

چین میں ایک دور تھا جب لوگ ملک چھوڑ کر جارہے تھے، بھارت کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے جبکہ پاکستان سے شہریوں کا انخلا بھی نوشتہ دیوار ہے لیکن نوجوانان ملت کو یہ پیغام ہے کہ ہمت جواں رکھیں کیونکہ اس وقت عسکری قیادت کی دلچسپی کے سبب معاشی ترقی کی جو راہیں کھل رہی ہیں ان سے پاکستان کا مستقبل تابناک ہوسکتا ہے اور جلد پاکستان چھوڑ کر جانے والے وطن عزیز میں وہ مواقع پائیں گے کہ خوشی خوشی واپس آئینگے۔

اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار قدرتی نعمتوں سے نوازا ہے اور صرف سی پیک ہی نہیں بلکہ معدنیات کے شعبے میں 6 کھرب ڈالر کے ذخائر پاکستان کی ترقی کی نوید سنارہی ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد پاکستان مشکل حالات سے نکل کر دنیا کے مضبوط و بااثر ممالک میں شامل ہوسکے گا کیونکہ جب ہماری عزت بڑھے گی تو ہماری قدر میں بھی اضافہ ہوگا تو چین اور بھارت کی طرح پاکستان کی اہمیت پوری دنیا کیلئے مسلمہ حقیقت بن جائیگی۔
نئی نسل کے ہونہاروں کو میرا یہی پیغام ہے:

میرے دیس کے جوانو! ہمت نہ ہارنا

قدرت کا امتحاں ہے ہمت نہ ہارنا

نئی نسل کے چراغو، امید رکھو باقی

یہ ملک ہے تمہارا، ہمت نہ ہارنا

خوشحال تم رہو گے، سرشار تم رہو گے

دشوار اس گھڑی میں ہمت نہ ہارنا

Related Posts