15 اگست 2021ء کو افغان طالبان نے کابل پر قبضہ کیا اور اپنے اقتدار سنبھالنے کا باقاعدہ اعلان کیا اور آج اس اقتدار کی دو سالہ سالگرہ منائی جا رہی ہے۔
لیکن دو سالوں میں طالبان حکومت کی طرف سے سامنے آنے والے بعض اقدامات پر عالمی سطح پر بڑی تنقید کی گئی، جن میں سے ایک خواتین کے تعلیمی حقوق پر قدغن تھا۔
اسی حوالے سے خواتین کے حقوق کی ایک افغان کارکن اور 2023 کے نوبل امن انعام کی نامزد امیدوار محبوبہ سراج کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اب ’اب خواتین کی آزادی نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔‘
امریکی خبر رساں ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں معاشرے سے، زندگی سے، ہر چیز سے – خواتین کی رائے، ان کی آواز، وہ کیا سوچتی ہیں، کہاں ہیں مٹائی جارہی ہے۔
مزید پڑھیں:
سعودی عرب کا ہزاروں خواتین معلمات کو موسیقی کی تربیت دینے کا اعلان
حالانکہ جب طالبان نے 2021 میں اقتدار سنبھالا تو ابتدا میں خود کو اپنی سابقہ ذات کے زیادہ معتدل ورژن کے طور پر پیش کیا، یہاں تک کہ یہ وعدہ بھی کیا کہ خواتین کو یونیورسٹی تک اپنی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
لیکن اس کے بعد انہوں نے لڑکیوں کے اسکولوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، خواتین کو یونیورسٹی میں جانے اور اقوام متحدہ سمیت این جی اوز میں کام کرنے پر پابندی عائد کی، کسی مرد محافظ کے بغیر ان کے سفر پر پابندی لگائی اور ان پر پارکس اور جم جیسی عوامی جگہوں پر جانا محال کردیا۔
انہی مسائل کے حل کیلئے محبوبہ سراج نے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے ملاقات کی۔
محبوبہ سراج نے ملاقات کے دوران بڑے دبنگ انداز میں ترجمان طالبان سے لڑکیوں کے اسکول کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان ایک ایسی نسل کا متحمل نہیں ہوسکتا جو اسکول ہی نہ گئی ہو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک طلبان حکومت یہ مسئلہ حل نہیں کرتی دنیا ان کے خلاف ہی رہے گی۔ محبوبہ سراج اور طالبان ترجمان کے درمیان ہونے والی اس ملاقات اور تبادلہ خیال کا احوال عالمی میڈیا پر ویڈیو میں دکھایا گیا۔
اس موقع پر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بڑے تحمل سے محبوبہ سراج کی بات سنی اور بہت ہی شائستہ انداز میں انہیں جواب بھی دیتے رہے اور ساتھ ہی ان کے تحفظات اپنی حکومت تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی۔
ذبیح اللہ مجاہد نے تسلیم کیا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے اب بھی ایک مسئلہ ہے اور کہا کہ ان کی حکومت اسلامی اصول و ضوابط کے مطابق لڑکیوں کی تعلیم کیلئے زمین ہموار کرنا اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے محفوظ ماحول قائم کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواتین صحت، تعلیم، پولیس کے محکموں، پاسپورٹ دفاتر، ہوائی اڈوں وغیرہ میں کام کر رہی ہیں۔
خواتین کے حقوق کی کارکن محبوبہ سراج نے کہا کہ افغانستان کے نوجوان اپنے پھیپھڑوں کے بل چیخ کر دنیا کی توجہ اپنی طرف اور افغانستان میں جنگ کی صورت حال کی طرف دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
محبوبہ سراج نے کہا کہ میں افغانستان میں ہوں اور یہاں رہنے کی واحد وجہ یہ ہے کہ میں اپنی بہنوں کے ساتھ رہوں اور ان کی مدد کرنے کی کوشش کروں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے پوری امید نہیں کھوئی ہے لیکن راستے کے ہر قدم اور ہر فیصلے کے ساتھ، میں اسے مزید مشکل ہوتا دیکھ رہی ہوں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








