مظفر نگر: مسلمان دشمنی کے جنون میں مبتلا مودی سرکار میں خاتون اسکول ٹیچر نے اپنی نگرانی میں مسلمان طالب علم کو ہندو بچوں سے تھپڑ لگوائے۔
حال ہی میں بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر مظفر نگر کے ایک سرکاری اسکول میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، جب خاتون ہندوانتہا پسند ٹیچر نے کلاس کے بچوں کو کہا کہ وہ باری باری آکر مسلمان طالب علم کو تھپڑ ماریں۔
اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہندو بچے باری باری اپنی جگہ سے اٹھ کر آرہے ہیں اور ٹیچر کے پاس کھڑے روتے ہوئے مسلمان بچے کو تھپڑ ماررہے ہیں۔
A Hindu school teacher in UP, India, asking Hindu kids in the class to hit a Muslim kid because he is Muslim! Islamophobia in India has crossed all boundaries. pic.twitter.com/HET3utip7P
— Ashok Swain (@ashoswai) August 25, 2023
ویڈیو میں ٹیچر کو بچوں سے یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ہلکے کیوں مار رہے ہو زور سے تھپڑ مارو۔ ہندو انتہا پسند ٹیچر نے ایک بچے کو مسلمان بچے کو تھپڑ مارنے کے بعد کمر پر بھی مارنے کی ہدایت کی۔ہندو ٹیچر نے ویڈیو بنانے والے کو مخاطب کرتے ہوئے مسلمان بچوں کی ماؤں کیلئے توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔
ویڈیو سوشل میڈیا پر آنے کے باوجود حکام نے کوئی ایکشن نہیں لیا جبکہ بچے کے والد کا کہنا ہے کہ انہوں نے بچے کو اسکول بھیجنا بند کردیا ہے۔ اسکول انتظامیہ نے ٹیچر کے خلاف رپورٹ درج نہ کرانے کے لیے دباؤ ڈالا ہے اور اس کے بدلے میں داخلہ فیس معاف کرنے کا کہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں دہلی میں استاد نے ہندی کی کتاب نہ لانے پر چھٹی جماعت کے مسلمان طالب علم کو کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
والدین کا کہنا تھا کہ اسکول ٹیچر بچے کو تھپڑوں، گھونسوں اور لاتوں سے مارتارہا جبکہ اسپتال ذرائع نے کہا کہ بچے کی گردن پر گلہ گھونٹنے کے نشانات بھی ہیں۔
اسکول انتظامیہ کی جانب سے معاملہ دبانے اور رفع دفع کرنے کے لیے والدین پر دباؤ ڈالا جارہا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








