گزشتہ دنوں متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں بہت بڑی کٹوتی کی ہے اور نئی پالیسی کے مطابق ریٹائرڈ اہلکاروں کو اب اس تنخواہ کی بنیاد پر پینشن ملے گی جو انہیں سول سروس میں پہلی بار بھرتی ہونے پر ملی تھی۔
13جون کو ایک فیس بک صارف نے مبینہ سرکاری نوٹیفکیشن اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا کہ جب ایک سرکاری ملازم ریٹائرمنٹ لیتا ہے تو تب اس کی آخری سیلری سلپ کی بیسک سیلری کے حساب سے اس کی پینشن مقرر ہوتی ہے اور اس سلپ کے حساب سے اسے کمیوٹیشن فنڈ بھی ملتا ہے۔

صارف نے مزید لکھا کہ لیکن اب حکومت نے پالیسی بنا دی ہے کہ [ملازم] کو اس بیسک سیلری کے حساب سے پینشن دی جائے گی جس سے وہ بھرتی ہوا تھا۔
صارف نے مزید الزام لگایا کہ مطلب اب 40 سال ملازمت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔
اس نیوز آرٹیکل کے شائع ہونے کے وقت تک اس پوسٹ کو فیس بک پر 600 سے زیادہ مرتبہ شیئر کیا گیا ہے۔
تاہم اس خبر پر حکام کا ردعمل آگیا انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا نوٹیفکیشن جعلی تھا، ایسی کوئی پالیسی زیر غور نہیں ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








