سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت سے دل کی بیماری کی تشخیص کا طریقہ تلاش کر لیا

تازہ ترین

تازہ ترین

سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت سے ایسا طریقہ تلاش کیا ہے جو سینے کے ریڈیو گراف ک ااستعمال کرتے ہوئے دل کے افعال کا درست طور پر جائزہ لے سکتا ہے جس سے دل کی بیماری کی تشخیص ممکن بنا لی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سائنسدانوں نے ایک ایسا آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا ماڈل تیار کر لیا ہے جو سینے کے ریڈیو گراف کا استعمال کرتے ہوئے دل کے افعال اور بیماریوں کی درست تشخیص کرسکتا ہے جبکہ اس تحقیق سے روایتی ایکو کارڈیوگرافی کی تکمیل کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 

روہڑی شہر کو فری وائی فائی زون قرار دے دیا گیا

محققین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے دل کی بیماری کی تشخیصی کارکردگی کو بہتر کیا جاسکتا ہے اور خاص طور پر ایسی سیٹنگز میں اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جن میں تکنیکی ماہرین کی کمی ہو جس کیلئے میڈیکل سائنس اور ٹیکنالوجی کا انضمام کیا گیا۔

ٹیکنالوجی اور سائنس کے اس انضمام کا مقصد مرض کی تشخیص کو بہتر بنانا ہے۔ اب تک اے آئی ماڈل کی مدد سے دل کی بیماری کی 6اقسام کی درجہ بندی کرنے میں اعلیٰ درستگی حاصل ہوئی ہے جس سے سائنسدانوں کو دل کے علاج میں پیشرفت کی توقع ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ماڈل کو رات کے وقت ہنگامی حالات اور ایسے مریضوں کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جنہیں ایکو کارڈیوگرافی میں مشکلات درپیش ہوں جس سے دل کی بیماری کے علاج میں مستقبل قریب میں بہت مدد ملے گی۔ 

Related Posts