آج پاکستان سمیت دنیا بھرمیں بدعنوانی کے خلاف عالمی دن منایا جارہاہے۔عالمی دن کے موقعے پر بے شمار تقریبات اور سیمینارز کا اہتمام بھی کیا جارہا ہے۔
رواں سال اقوامِ متحدہ کی طرف سے انسدادِ کرپشن کے عالمی دن کا عنوان ”بدعنوانی کے خلاف عالمی اتحاد“ رکھا گیا ہے جبکہ اینٹی کرپشن ڈے پوری دنیا میں بدعنوانی کے خلاف جنگ کا اعلان ہے۔
آیئے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ پاکستان کی کس شخصیت پر کتنی کرپشن کے الزامات ہیں۔

شریف فیملی
میڈیا رپورٹس کے مطابق شریف فیملی 5 ارب سے زائد اثاثہ جات ہیں جب کہ شریف خاندان پر آمدن سے زائد اثاثہ جات کا الزام ہے۔ برطانیہ میں شریف فیملی کی 21 دیگر پراپرٹیز ہیں ان پراپرٹیز کی اندازاً قیمت 32 ملین پونڈ یا تقریباً 500 کروڑ پاکستانی روپے سے زیادہ ہے۔

آصف علی زرداری
ذرائع کے مطابق آصف علی زرادری 75 کروڑ 86 لاکھ سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں جبکہ ان کی بے نامی کمپنیوں کی تعداد 32 ہے، ان کمپنیوں میں شوگر ملز اور سیمنٹ فیکٹریاں شامل ہیں۔ بلاول ہاؤس کے اردگرد موجود 40 سے زائد گھر اور پلازے مبینہ طور پر آصف علی زرداری کے نام پر ہیں ۔ آصف زرداری کے والد کراچی میں ایک معمولی سنیما کے مالک تھے لیکن آج برطانیہ، فرانس، امریکا اور اسپین میں آصف علی زرداری کی 876 ملین پاؤنڈ اور پاکستان میں 175 ملین پاؤنڈ کی جائیدادیں موجود ہیں۔

ملک ریاض
برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے ) کے مطابق ملک ریاض کی لندن میں موجود عمارت کی مالیت تقریباً پانچ کروڑ پاؤنڈ ہے۔
انہوں نے اپنے میگا ملین بحریہ ٹاؤن کا ہاوسنگ پروجیکٹ کا بیشتر حصہ غیر قانونی زمین پر قائم کیا تھا جس پر سپریم کورٹ نےایکشن لیتے ہوئے ملک ریاض پر 460 ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا جبکہ غیر قانونی زمین کی رقم کا تخمینہ اربوں میں لگایا گیا ہے۔

جہانگیر ترین
میڈیا رپورٹس کے مطابق جہانگیر ترین کی جائیداوں کی کل ملکیت 78 کروڑ سے زائد ہے۔ ان کی جائیدادوں میں شوگر ملز، فارم ہاؤسز اور ایک پرائیوٹ جہاز شامل ہے۔
اس کے علاوہ پانامہ لیکس کے انکشافات میں جہانگیر آف شور کمپنیز کے بھی مالک نکلے جو ان کےظاہر کردہ اثاثہ جات سے زائد ہیں ۔جہانگیر ترین برطانیہ میں 12 ایکڑ کی جائیداد رکھتے ہیں جس کی مالیت کم وبیش 7ملین پاؤنڈز ہے۔ جہانگیر ترین کی نااہلی کی وجہ یہ تمام جائیدادیں ہیں جنہیں ظاہر نہیں کیا گیا۔

علیمہ خان
وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ نیازی دوبئی کے قلب میں واقع برج الخلیفہ سے متصل 7 کروڑ 40 لاکھ روپے کے فلیٹ کی مالک ہیں۔ابتدائی طور پر علیمہ خان نے اس جائیداد کو ظاہر نہیں کیا تھا جس پر انہیں قانونی نوٹس بھیجا گیا۔سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے ’علیمہ خان کوایک ہفتے میں 2 کروڑ 94 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے اپنا جرمانہ ادا کرنا شروع کردیا ہے۔
بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل کے مطابق اس وقت کرپشن رنکنگ میں پاکستان دنیا کے 180ممالک میں سے 117 ویں نمبر پر ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے ۔
پاکستان میں کرپشن اتنی عام ہےجس وجہ سے آج ملک کا قرضہ 10 ہزار 446 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ۔ہر پاکستانی پر واجب الادا قرضہ 1لاکھ 27 ہزار روپےہے۔جب تک کرپشن پر قابو پایا نہیں جائے گا تب تک ہم نہ ہی معاشی طور پر مستحکم ہوسکتے ہیں اور نہ ہی اپنے قرضے ادا کرسکتے ہیں ۔
ملکِ خداداد پاکستان میں قومی احتساب بیورو (نیب)، محکمہ اینٹی کرپشن اور دیگر تنظیمیں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کام کر رہی ہیں جبکہ آج عالمی دن کے موقعے پر ملک بھر میں سیمینارز اور ریلیوں کا اہتمام کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: اینٹی کرپشن ڈے: بدعنوانی کے خلاف عالمی دن
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








