کراچی آرٹس کونسل میں رواں ہفتے 5 سے 8دسمبر تک 4روزہ ادبی سرگرمیوں پر مشتمل 12ویں عالمی اردو کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جن میں دنیا بھر سے علم و ادب کے ستاروں نے شرکت کی۔
آرٹس کونسل میں 12ویں عالمی اردو کانفرنس کے انعقاد سے قبل کونسل منتظمین اور رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی جس کی سربراہی صدرِ آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کی۔

آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نےپریس کانفرنس میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اردو کانفرنس میں دنیا بھر سے 200 فلسفی، محقق، ادیب ، شاعر شرکت کریں گے۔
صدر محمد احمد شاہ نے کہا کہ 4 روزہ بارہویں عالمی اردو کانفرنس کا افتتاح وزیراعلیٰ 5 دسمبر کو کریں گے جس میں دنیا بھر سے 200 فلسفی، محقق، ادیب ، شاعر شرکت کریں گے۔
محمد احمد شاہ نے بتایا کہ پاکستان کی علاقائی زبانوں سندھی، بلوچی،سرائیکی ، پشتو اور پنجابی کو بھی کانفرنس کی میں انفرادیت میں شامل کیا گیا جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اردو کے زیادہ سیشن رکھے گئے ہیں۔
کانفرنس کا پہلا روز، مرزا غالبؔ پر گفتگو
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں پہلے روز 12ویں عالمی اردو کانفرنس میں غالب کی 150سالہ برسی کی مناسبت سے خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔
خصوصی اجلاس کا عنوان” غالب ہمہ رنگ شاعر“ رکھا گیا۔ اجلاس کی صدارت بھارت سے آئے ہوئے نامور ادیب شمیم حنفی نے کی جبکہ اجلاس کے دوران ڈاکٹر نعمان الحق، تحسین فراقی اور ہیرو کتاؤ جی نے مقالے پیش کیے۔
ڈاکٹر نعمان الحق نے”یگانہ اور مثال زمانہ گونہ گوں “ جبکہ تحسین فراقی نے ”حیات اور تصور حیات “ کے عنوان سے مقالے پیش کیے جبکہ ناصرہ زبیری نظامت کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ شرکائے اجلاس نے مقالہ پڑھنے والوں کو تحسین سے نوازا اور ان کی تحقیق پر انہیں داد پیش کی۔

عالمی اردو کانفرنس میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا صوبائی وزیر سردار علی شاہ نے استقبال کیا۔ وزیر اعلی مراد علی شاہ کے ساتھ کمشنر کراچی افتخار شلوانی اور سندھ حکومت کی دیگر اعلیٰ قیادت بھی موجود تھی۔
صدرِ اجلاس شمیم حنفی نے کہا کہ غالب ایسے شاعر تھے جنہیں عالمی سطح پر قبول کیا گیا، ان کے پائے کا کوئی شاعر نہیں۔ ڈاکٹر نعمان الحق نے مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ غالبؔ ایک عظیم شاعر تھے۔ ان کی طرح کا کوئی اور شاعر نہیں۔ عظیم شاعر نے زمین اور آسمان کے حوالے سے کمال کے نکاتِ علمی بیان کیے ہیں۔
ڈاکٹر تحسین فراقی نے غالب پر مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر غالب نہ ہوتے تو ہم 19ویں صدی کی دستاویز سے محروم ہوجاتے۔ نسلی اعتبار سے غالب کا تعلق ابیک سے تھا۔ غالب کا انسان کے ساتھ تعلق اٹوٹ ہے۔ انہیں انسانی تصورات سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔
باکمال شاعر جونؔ ایلیا پر اظہارِ خیال
پہلے روز کے دوسرے اجلاس میں باکمال شاعر جون ایلیا کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی جس کی نظامت اینکر انیق احمد نے انجام دی جبکہ سابق وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔
پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کہا کہ جون ایلیا کو ہر اس جگہ اچھی طرح پڑھا اور سمجھا جاتا ہے جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ ان کے بے شمار اثرات دل پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔ جون ایلیا نے تراجم کے ذریعے بھی نام پیدا کیا۔
سابق وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی پیر زادہ قاسم نے کہا کہ جون ایلیا متعدد زبانوں پر عبور رکھتے تھے، انہوں نے گفتگو کو شاعری بنا دیا، ان کا رویہ طنز، انکار اور اذیت ظاہر کرتا ہے۔
عالمی اردو کانفرنس کا دوسرا دن، تحقیقی مقالوں کے نام
عالمی اردو کانفرنس کا دوسرا روز تحقیقی مقالوں کے نام رہا جس میں شعر و سخن کے عصری تناظر پر محققین نے سیر حاصل گفتگو کی اور اپنے اپنے مقالے پیش کیے۔
اجلاس کی صدارت معروف ادباءو شعراءامجد اسلام امجد، افتخار عارف، کشور ناہید، امداد حسینی، عذرا عباس، منظر ایوبی اور افضال احمد سید نے کی جبکہ نظامت کے فرائض شکیل خان نے انجام دیئے۔
مشہور و معروف شاعرہ یاسمین حمید نے جدید نظم کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ جدیدیت کا لفظ اردو کی نظم اور غزل کے لیے متعدد بار استعمال ہوا جبکہ 1939ء میں بھی ترقی پسند حلقوں نے یہ لفظ استعمال کیا۔
اردو کانفرنس کا تیسرا دن ، نثری ادب کی گفتگو
عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز اردو کے نثری ادب پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ اسد محمد خان، حسن منظر اور مسعود اشعر نے اردو فکشن، معاصر منظر نامہ کے عنوان پر مجلس کی صدارت کی۔
برطانوی قلمکار نجمہ عثمان نے ”اردو فکشن انگریزی فکشن کے تناظر میں” کے عنوان سے مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پہلا افسانہ ہندوستان میں منشی پریم چند نے لکھا، جدیدیت کا دور آیا مگر زیادہ نہ چل سکا۔
معروف ادیب عرفان جاوید نے ”فکشن کیوں پڑھا جائے“ کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ روسی دانشور انتون چیخوف اپنی چھوٹی سی زندگی میں سب کو سب کہانیاں سنانے کی خواہش کی جبکہ ان کا انتقال 44 سال کی عمر میں ہوا۔
چاپانی شہر ٹوکیو کے سویامانے یاسر نے ”اردو افسانے کا مطالعہ“ کے موضوع پر اردو میں ہی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جدید ادب کا مطالعہ شروع ہوا جبکہ جاپان میں 200 سے زائد اردو افسانوں کا جاپانی میں ترجمہ ہوا۔
طنز و مزاح
مشہور و معروف میڈیا اینکر اور قانون دان نعیم بخاری کے نام پر میزبان ارشد محمود کے ساتھ نعیم بخاری کی گفتگو ہوئی۔ نعیم بخاری نے کہا کہ پہلے میرا تعلق موسیقی سے تھا، اب نہیں ہے۔ اس پر لوگ خوب محظوظ ہوئے۔
مشہور کالم نویس اور ڈرامہ نگار منو بھائی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نعیم بخاری نے کہا کہ وہ موقعے کی مناسبت سے کہانی لکھتے اور بناتے تھے۔ انہوں نے ضیاء الحق پر وہ تنقید کی جو ضیاء الحق کو بھی سمجھ میں نہ آسکی۔
معروف مزاحیہ شاعر انور مسعود کو بھی دعوتِ کلام دی گئی۔ انہوں نے سامعین کو اپنی خوبصورت شاعری سے محظوظ کیا اور خوب داد وصول کی۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








