روئے زمین پر مظلوم ترین شہر غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ قتل وغارت کے المناک واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
قابض اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں اب تک 10000 سے زائد افراد شہدی ہو گئے ہیں۔ ان میں سے نصف کے قریب بچے ہیں اور تقریباً 26000 زخمی ہیں، اس کے علاوہ ہزاروں خاندان بے گھر ہیں۔ بے گھر ہونے والے مظلوموں کو نہ خوراک میسر ہے، نہ پانی نہ بجلی اور نہ دیگر بنیادی سہولیات میسر ہیں، یہ لاکھوں افراد انتہائی بے یار و مددگار حالت میں اس وسیع و عریض جیل میں محبوس اور محصور پڑے ہوئے ہیں اور باری باری موت کا انتظار کر رہے ہیں۔
ایسے میں غزہ کی ایک مصیبت زدہ لڑکی جس کا پورا خاندان قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں مارا گیا ہے کی دردناک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے، جس میں وہ پوری دنیا سے روتے ہوئے فریاد کر رہی ہے کہ خدا کا واسطہ جنگ بند کراؤ۔
غمزدہ لڑکی فریاد کرتی ہے کہ میرا خاندان مر گیا ہے، میرے خاندان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا ہے، ہم جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا ہے۔
جب اس کے خاندان کے لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا جو مر چکے ہیں، تو اس نے روتے ہوئے جواب دیا کہ میری ماں، میری بہنیں، میرے دادا، میرے شوہر اور میرے چچا اور کئی دوسرے اقارب شہید ہوچکے ہیں۔
اس نے چلا کر کہا کہ جنگ ختم کرو، میری ماں مرگئی، وہ میرے بیٹے کے لیے کھانا بنا رہی تھی۔ انھوں نے گھر پر بمباری کردی۔ پورا گھر ہم پر آ گرا۔ خدا کی قسم میں کسی بھی شہری کے گھر بیٹھنے سے ڈرتی ہوں۔ گھر نہیں ہے۔ ہمارے سارے گھر تباہ ہو گئے۔
مصیبت کی ماری مظلوم فلسطینی لڑکی عرب اقوام کو دہائیاں دیتی ہے اور کہتی ہے کہ عرب حکمرانو تم کہاں مر گئے ہو، تم کیوں خاموش ہو اور کیوں کچھ نہیں کر رہے ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








