اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے انکشاف کیا ہے کہ حماس کے زیر حراست قیدیوں کی بازیابی کے لیے نئے مذاکرات جاری ہیں۔
اسرائیلی انٹیلی جنس سروس (موساد) کے سربراہ نے حماس اور تل ابیب کے درمیان ثالثی کرنے والے قطر کے وزیراعظم سے ملاقات کی ہے۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران نیتن یاہو نے مذکورہ ملاقات کی تفصیلات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ حماس کو معلومات ظاہر نہیں کریں گے۔
[visual-link-preview encoded=”eyJ0eXBlIjoiaW50ZXJuYWwiLCJwb3N0IjoxODMwMDUsInBvc3RfbGFiZWwiOiJQb3N0IDE4MzAwNSAtINin2YLZiNin2YXZkCDZhdiq2K3Yr9uBINqp2Kcg2KfZhtiz2KfZhtuMINuB2YXYr9ix2K/bjCDaqduMINio2YbbjNin2K8g2b7YsSDYutiy24Eg2YXbjNq6INiv2YjYqNin2LHbgSDYrNmG2q8g2KjZhtiv24wg2qnYpyDZhdi32KfZhNio24EiLCJ1cmwiOiIiLCJpbWFnZV9pZCI6MTM2MDYxLCJpbWFnZV91cmwiOiJodHRwczovL21tbmV3cy50di91cmR1L3dwLWNvbnRlbnQvdXBsb2Fkcy8yMDIyLzA5L1VOLVNlY3JldGFyeS1HZW5lcmFsLTMwMHgyNTAuanBnIiwidGl0bGUiOiLYp9mC2YjYp9mF2ZAg2YXYqtit2K/bgSDaqdinINin2YbYs9in2YbbjCDbgdmF2K/Ysdiv24wg2qnbjCDYqNmG24zYp9ivINm+2LEg2LrYstuBINmF24zauiDYr9mI2KjYp9ix24Eg2KzZhtqvINio2YbYr9uMINqp2Kcg2YXYt9in2YTYqNuBIiwic3VtbWFyeSI6Itin2YLZiNin2YXZkCDZhdiq2K3Yr9uBINmG25Ig2KfZhtiz2KfZhtuMINuB2YXYr9ix2K/bjCDaqduMINio2YbbjNin2K8g2b7YsSDYutiy24Eg2YXbjNq6INin24zaqSDYqNin2LEg2b7avtixINis2YbaryDYqNmG2K/bjCDaqdinINmF2LfYp9mE2KjbgSDaqdix2KrbkiDbgdmI2KbbkiDaqduB2Kcg24HbkiDaqduBINmB2YTYs9i324zZhtuMINio2YLYp9ihINqp24wg2KrZhNin2LQg2YXbjNq6INin24zaqSDYs9uSINiv2YjYs9ix25Ig2YXZgtin2YUg2b7YsSDZhdmG2KrZgtmEINuB2YjZhtuSINm+2LEg2YXYrNio2YjYsSDbgduM2rrblCDYqtmB2LXbjNmE2KfYqiDaqduSINmF2LfYp9io2YIg2KfZvtmG25Ig2KfbjNqpINio24zYp9mGINmF24zauiDYp9mC2YjYp9mF2ZAg2YXYqtit2K/bgSDaqduSINiz24zaqdix24zZudix24wg2KzZhtix2YQg2KfZhtiq2YjZhtuM2Ygg2q/ZiNiq2LHbjNizINmG25Ig2qnbgdinINqp24Eg2K3Zhdin2LMg2qnbjCDYqNix2KjYsduM2Kog2YHZhNiz2LfbjNmG24wg2LnZiNin2YUg2qnZiCDYp9is2KrZhdin2LnbjCDYs9iy2Kcg2K/bjNmG25Ig2qnbjNmE2KbbkiDYrNmI2KfYsiDZvtuM2LQg2YbbgduM2rog2qnYsdiq24zblCDYutiy24Eg2YXbjNq6INqp2YjYptuMINmF2YLYp9mFINmF2K3ZgdmI2Lgg2YbbgduM2rog2obavtmI2pHYpyDar9uM2KfYjCDZgdmE2LPYt9uM2YbbjCDZhNmI2q8g2K/Ysdio2K/YsSDbgdmI2q/YptuSINuB24zautuUINio24zYp9mGINmF24zauiDYs9uM2qnYsduM2bnYsduMINis2YbYsdmEINin2YbYqtmI2YbbjNmIINqv2YjYqtix24zYsyDZhtuSINin2LPYsdin2KbbjNmEINiz25Ig2KfZhtiz2KfZhtuMINuB2YXYr9ix2K/bjCDaqduMINio2YbbjNin2K8g2b7YsSDZgdmI2LHbjCDYrNmG2q8g2KjZhtiv24wg2qnYpyDZhdi32KfZhNio24EuLi4iLCJ0ZW1wbGF0ZSI6InVzZV9kZWZhdWx0X2Zyb21fc2V0dGluZ3MifQ==”]
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نیتن یاہو نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ غزہ پر اسرائیلی حملے نے نومبر میں قیدیوں کی رہائی کے لیے جزوی معاہدے تک پہنچنے میں مدد کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں مذاکراتی ٹیم کو جو ہدایات دیتا ہوں وہ اس دباؤ پر مبنی ہیں جس کے بغیر ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کو غزہ پر مذاکرات میں جنگ بندی اور افواج کے انخلاء کی درخواستیں موصول ہوئی تھیں لیکن وہ ایسا نہیں کرے گا۔
دوسری جانب حماس نے ایک مختصر بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی پر حملہ روکنے سے قبل اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
حماس نے بیان میں کہا کہ حماس اپنے موقف کی تصدیق کرتی ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے کسی بھی قسم کے مذاکرات کا آغاز اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک کہ ہمارے لوگوں کے خلاف جارحیت ہمیشہ کے لیے بند نہیں ہوجاتی۔ حماس نے یہ پیغام ثالثوں تک بھی پہنچا دیا ہے۔
اس سے قبل ہفتے کے روز امریکی میڈیا نے ایک اسرائیلی ذریعے سے اطلاع دی تھی کہ تل ابیب نے حماس کے ساتھ ایک نئے معاہدے کے بارے میں بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جس میں 7 اکتوبر کے حملے کے نتیجے میں تحریک کی طرف سے حراست میں لی گئی باقی خواتین کی رہائی بھی شامل ہے۔
دوسری طرف غزہ کی پٹی میں اسرائیلی زیر حراست افراد کے خاندانوں کے سینکڑوں افراد اسرائیلی وزارت دفاع کی عمارت کے سامنے جمع ہوئے اور اپنے پیاروں کی جلد از جلد رہائی کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبات اسرائیلی فوج کی جانب سے 3 قیدیوں کو غلطی سے ہلاک کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں۔
خیال رہے کہ سات اکتوبر کے اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد غزہ میں اب تک 19 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








