بھارت سے تعلق رکھنے والی 11 ویں جماعت کی 16 سالہ مسلم طالبہ مریم انبساط نے ملک شام میں جاری خانہ جنگی پر ناول لکھ ڈالا۔
مریم انبساط کا ناول ‘When the Sky Rote Back’کے عنوان سے اور 341 صفحات پر مشتمل ہے، جس کے متعلق مریم کو امید ہے کہ وہ اس ناول کے ذریعے شام کی خانہ جنگی کے بارے میں بیداری پیدا کرنے میں کامیاب ہوں گی۔
ناول کی مصنفہ مریم انبساط بھارتی شہر حیدرآباد کے اذان انٹرنیشنل اسکول کی ہونہار طالبہ ہیں۔ ناول پر بات کی جائے تو یہ نور احمر نامی خاتون کردار کے گرد گھومتا ہے، جو مصر سے تعلق رکھنے والی صحافت کی ایک نوجوان خاتون طالبہ ہے جو ایک خبر رساں ادارے کیلئے رپورٹنگ کی غرض سے خفیہ طور پر شام جاتی ہے اور وہاں سے جنگ اور خانہ جنگی کی ہولناکیوں کو دنیا کے سامنے لے آتی ہے۔
یہ ناول بمباری، بھوک، خوف، رومان اور دیگر انسانی جذبات کی عکاسی کرتا ہے اور یہ سارے جذبات اور تلخ حقائق شام میں رپورٹنگ کے دوران اس کے تجربات اور مشاہدات کا حصہ بن جاتے ہیں۔

شام میں مارچ 2011 کے دوران عرب بہار کے تسلسل میں خانہ جنگی کا آغاز ہوا، جو اپنی بدترین صورت کے ساتھ اب بھی جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے 2022 میں تخمینہ لگایا تھا کہ اس خانہ جنگی کے دوران مارچ 2011 سے مارچ 2021 کے درمیان 306887 شہری مارے گئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
قتل و خون کے علاوہ شام کی نصف سے زیادہ آبادی کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے، جو اندرون شام مختلف شہروں کے علاوہ ترکیہ اور یورپ کے کئی ملکوں میں دربدری کا عذاب جھیل رہی ہے۔
ناول کی مصنفہ مریم انبساط کہتی ہیں کہ انہوں نے ناول کیلئے صحافی کے کردار کا انتخاب اس لیے کیا، کیونکہ وہ صحافت کی طاقت پر یقین رکھتی ہیں۔ امریم کا ماننا ہے کہ صحافیوں کے پاس بے آواز اور بے سہارا لوگوں کی آواز اور سہارا بننے کی جو طاقت ہے، وہ کسی اور کے پاس نہیں ہے۔”
مریم بتاتی ہیں کہ ناول کیلئے انہوں نے خاتون صحافیہ کے کردار کا انتخاب الجزیرہ کی مقتول نامہ نگار شیرین ابوعاقلہ سے متاثر ہوکر کیا ہے، جو 2022 میں اپنے صحافتی فرائض کی انجام دہی کے دوران اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئی تھیں۔
مریم انبساط کا کہنا ہے کہ ناول کے کردار نوراحمر کے سفر کے ذریعے وہ پوری دنیا کے لوگوں تک “انسانیت کا پیغام” پہنچانا چاہتی ہیں۔ ناول میں مختلف کرداروں کی مدد سے شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانی المیہ کے بارے میں آگہی فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مریم کے بقول انہوں نے چار سال پہلے ناول لکھنا شروع کیا، جب وہ صرف بارہ سال کی تھیں، ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈائری کے طور پر لکھنے کا آغاز کیا تھا، جس میں وہ روازنہ کی بنیاد پر ناول کے کردار نوراحمر کی روزمرہ کی زندگی اور پیشہ ورانہ فرائض قلم بند کرتی تھیں۔
مریم کا کہنا ہے کہ ناول کی تحریر میں انہیں نہ صرف اپنے والدین کی بھرپور حمایت حاصل تھی، بلکہ ان کی والدہ جو ایک اسکول ٹیچر ہیں، ناول لکھنے میں ان کی مدد بھی کرتی رہی ہیں۔
ناول کا اختتام ناول کے مرکزی کردار خاتون صحافی نوراحمر کے قتل پر ہوتا ہے، لیکن مرتے مرتے بھی نوراحمر اپنی تمام ویڈیو ریکارڈنگز اور تصاویر اہم ثبوت کے طور پر چھوڑ جاتی ہے، جنہیں ان کی موت کے بعد دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔
یہ ناول آن لائن بھی دستیاب ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








