کراچی کے شہری ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر رہ گئے، شہر قائد میں اسٹریٹ کرائمز اور موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔
سی پی ایل سی (سٹیزنز پولیس لائزن کمیٹی) کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری اور فروری میں ریکارڈ توڑ وارداتیں ہوئی ہیں۔ 2024 کے ابتدائی دو ماہ کے دوران ہی ڈکیتی مزاحمت پر 31 شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
شہر میں لوٹ مار، چوری چکاری، ڈکیتی، قتل وغارت گری، بھتا خوری اور اغواء برائے تاوان کی 15 ہزار سے زائد وارداتیں ریکارڈ کی گئیں۔
دو ماہ کے دوران شہریوں سے موبائل فون چھیننے کی چار ہزار 300 وارداتیں رپورٹ ہوئیں جبکہ 270 سے زائد گاڑیاں چوری کی گئیں۔ اسلحے کے زور پر شہریوں کو 45 سے زائد قیمتی گاڑیوں سے محروم کیا گیا۔
اسلحے کے زور پر شہریوں سے 1565 موٹرسائیکلیں چھینی گئیں جبکہ شاہراہ, بازاروں، گلیوں اور محلوں سے 8 ہزار 255 موٹرسائیکلیں چوری ہونے کے واقعات درج ہوئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








