رمضان المبارک کا رحمتوں اور برکتوں بھرا مہینہ آج سے شروع ہوگیا جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اس بابرکت مہینے کے دوران انسانی ذہن میں غلط خیالات اور وسوسے پیدا کرنے والے شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماہِ رمضان کی عظیم الشان نعمت عطا فرمائی، یہ وہ ماہِ مبارک کے جس کے دوران نفل کا ثواب فرض اور فرض کا ثواب 70گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ روزے دار کا سونا، جاگنا اور نیک نیتی سے دنیا کا کوئی بھی کام عبادت شمار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے دوران قرآنِ پاک جیسی بصیرت افروز الہامی کتاب عطا فرمائی۔
کسی بھی روزے دار کیلئے روزہ ایک ایسی ڈھال کی مانند ہے جو اسے ہر گناہ سے بچاتی ہے۔ مسلمان روزے دار صبحِ صادق سے لے کر غروبِ آفتاب تک اللہ تعالیٰ کے حلال کیے گئے رزق کو ہاتھ لگانے سے گریز کرتے ہیں اور کھانے پینے سے اجتناب برتتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ تم میں سے جو کوئی قرآن کے نزول کا مہینہ رمضان پائے، اس کے روزے ضرور رکھے۔
ایک روایت کے مطابق رمضان المبارک کے دوران شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے جس پر انسانی ذہن میں یہ سوال جنم لے سکتا ہے کہ اگر شیطان کو قید کردیا جاتا ہے، اس کے باوجود انسانی ذہن میں وسوسے کیوں جنم لیتے رہتے ہیں؟ تو انسانی ذہن کو متاثر کرنے والی کچھ چیزیں شیاطین کے علاوہ بھی ہیں جن کا انسان شکار ہوسکتے ہیں۔
مثال کے طور پر انسانی ذہن شیطان کے بہکاوے میں آ کر مختلف منصوبے بناتا ہے اور ان پر عمل کرتا ہے۔ مسلسل برائیاں کرنے والے لوگ رمضان المبارک کے دوران اچانک ٹھیک بھی ہوجاتے ہیں تاہم بہت سے لوگ اپنی بداعمالیوں سے باز نہیں آتے، جس میں قصور ان کی عادات کا ہوتا ہے جو عمر کے ساتھ ساتھ پختہ ہوجاتی ہیں۔
ایسی ہی بری عادات میں انسانی ذہن میں آنے والی بری سوچیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ انسانی ذہن میں بیک وقت مختلف چیزوں کے متعلق مختلف خیالات کا جنم لینا ایک عام بات ہے، لیکن خیالات کے اس ہجوم سے ہر شخص اسی خیال کو قبول کرتا اور مانتا ہے جو اس کی ذاتی رائے اور علم کے مطابق درست ہوتا ہے۔
انسان کو اچھے سے برا اور برے سے اچھا بنانے میں اس کی عادات اور اعمال کا خاص ہاتھ ہوتا ہے۔ دینِ اسلام کی بعض روایات کے مطابق اگر کوئی انسان حرام کھائے، حرام پہنے اور حرام کمائی سے بنائے گئے گھر میں رہے تو اس کا نتیجہ برا ہی نکلے گا اور اگر کوئی حلال کھانے والا شخص 1 دن کیلئے بھی حرام کھائے تو اس کے خیالات منتشر ہو کر برائی کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








